آسیہ بی بی کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے متضاد خبریں

November 8, 2018

 

آسیہ بی بی کی پاکستان موجودگی کے حوالے سے متضاد خبریں گردش کررہی ہیں،وکیل کے مطابق وہ پاکستان چھوڑچکی ہیں جبکہ دفتر خارجہ کے مطابق وہ اسلام آباد میں ہی ہیں۔

سپریم کورٹ کی جانب سے آسیہ بی بی کوگزشتہ ہفتے توہین رسالت کے مقدمے میں بری کیا گیا تھا، آسیہ کے وکیل کے مطابق بدھ کی رات اسے ملتان جیل سے رہا کردیا گیا تھا۔ جبکہ آج صبح دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ آسیہ بی بی پاکستان میں ہی ہے۔

دوسری جانب، یورپین پارلیمنٹ کے صدرانٹونیو ٹیجانی نے ٹوئٹرپیغام میں کہاکہ جیل سے رہائی کے بعد آسیہ بی بی کو محفوظ مقام پرمتقل کردیا گیا ہے ۔ انٹونیو نے پاکستانی حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مزید لکھا کہ " آسیہ بی بی اوراس کی فیملی سے یورپین پارلیمنٹ میں جلد ازجلد ملاقات ہوگی''۔

اکتیس دسمبر کی رات عدالت عظمیٰ نے پھانسی کی سزا کالعدم کرتے ہوئے آسیہ بی بی کی فوری رہائی کا حکم دیا تھا۔

گزشتہ روزآسیہ کے وکیل سیف الملوک نے خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''مجھے بتایا گیا تھا کہ وہ جہاز پر سوار ہیں لیکن یہ کوئِی نہیں جانتا کہ جہاز کہاں اترے گا''۔

 مزید پڑھیے: عدالتی حکم کے بغیرآسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جائے گا 

متوقع احتجاج

متحدہ مجلس عمل نے آج ملین مارچ کا اعلان کررکھا ہے، شرکاء شارع قائدین پر واقع نورانی کباب ہاوس کے پاس جمع ہو رہے ہیں جہاں 4 بجے خطاب کیا جائے گا۔

اس حوالے سے کراچی کے شہریوں کیلئے متبادل راستوں کا اعلان کردیا گیا ہے جس کے مطابق شارع قائدین سوسائٹی سگنل سے نورانی سگنل تک ٹریفک کےلیے بند کردی گئی ہے۔ ٹریفک پولیس کے مطابق نمائش سےسوسائٹی سگنل آنے والی ٹریفک کو عائشہ عزیز کٹ کی طرف موڑدیاگیا ہے جبکہ کشمیر روڈ سے آنے والی ٹریفک کو نمائش چورنگی کی طرف بھِیجا جارہاہے۔

نورانی سگنل سے سوسائٹی سگنل جانے والی سڑک ٹریفک کے لیے کھلی ہے۔

پس منظر

واضح رہے کہ 31 اکتوبر کو توہین رسالت کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے ناکافی شواہد پر آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے بعد ملک بھرمیں مذہبی جماعتوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے احتجاج اور دھرنے کا سلسلہ شروع کیا۔  حالات کشیدہ ہونے پرحکومت کی جانب سے کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور 2 نومبر کو اسلام آباد میں حکومت اور مظاہرین کے مابین 5 نکاتی معاہدہ طے ہونے کے بعد دھرنا ختم کردیا تھا۔ معاہدے میں طے پایا تھا کہ آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے گا۔