عدالتی حکم کے بغیر آسیہ کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جائے گا،شہریار آفریدی

November 7, 2018

وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں رہائی پانے والی آسیہ بی بی پاکستان میں موجود ہے، اس کو حکومت کی جانب سے مکمل سیکیورٹی فراہم کئی گئی ہے۔ جب تک عدالت حکم نہ دے، اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں نہیں ڈالا جائے گا۔

گزشتہ روز امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ جب تک عدالت کسی کو مجرم قرار نہ دے، حکومت کے پاس کوئی قانونی جواز نہ ہو، اس وقت تک اس کا نام ای سی ایل میں کیسے شامل ہو گا۔ اس کا سوال ہی  پیدا نہیں ہوتا۔

وزیر داخلہ برائے مملکت نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل ہر شہری کا قانونی اور شرعی حق ہے مگر عدالتی حکم کے بغیر آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ جو حکم دے گی اس پر مکمل عمل درآمد ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی اداروں نے مرضی کیخلاف پاکستان سے باہر بھیجا، وکیل آسیہ بی بی

شہریار آفریدی نے آسیہ بی بی کے بیرون ملک جانے سے متعلق افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں موجود ہے،اس کو اور اس کے خاندان کو حکومت کی جانب سے مکمل سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ احتجاج کے دوران بعض لوگ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث تھے۔ ہم نے معاہدے کے بعد تحریک لبیک کے قائدین کو فوٹیجز دکھائیں تو انہوں نے شرپسندوں اور توڑپھوڑ کرنے والوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ آسیہ بی بی پر آج سے تقریبا 10 برس پہلے شیخوپورہ کے ایک گاؤں میں کھیتوں میں کام کرنے کے دوران اس کی ساتھی خواتین اور گاؤں کے مولوی نے توہین رسالت کا الزام عائد کیا تھا۔ اس کے بعد سیشن کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ نے آسیہ بی بی کو سزائے موت سنا دی۔

یہ بھی پڑھیں: آسیہ بی بی کیس کے فیصلے میں عدالت نے قرآن و حدیث کے حوالے دیئے

آسیہ بی بی نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں اپیل کردی جس پر گزشتہ ہفتے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بنچ نے فیصلہ سناتے ہوئے آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے 47 صفحات پر مبنی تفصیلی فیصلے میں لکھا ہے کہ آسیہ بی بی پر توہین رسالت کا الزام ثابت نہیں ہوسکا۔ گواہان کے بیانات میں تضاد پایا گیا جبکہ بعض گواہان عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مذہبی جماعتوں نے ملک میں پرتشدد مظاہرے کیے اور تمام مرکزی شاہراہوں کو بند کردیا جس کے باعث ملک عملی طور پر مفلوج ہوگیا۔

تین دن کے احتجاج کے بعد حکومت اور مظاہرین کے مابین 5 نکاتی معاہدہ طے پاگیا جس میں حکومت نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے قانونی کارروائی کی جائے گی جبکہ مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہیں ہوگی۔