Sunday, January 16, 2022  | 12 Jamadilakhir, 1443

پروین رحمان قتل،عدالت نے کیس 2 ماہ میں نمٹانے کا حکم دیدیا

SAMAA | - Posted: Nov 6, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Nov 6, 2018 | Last Updated: 3 years ago

سندھ ہائي کورٹ ميں پروين رحمان قتل کيس کے گرفتار ملزمان کي درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے عدالت نے اے ٹي سي کو پروين رحمان کيس دو ماہ ميں نمٹانے کا حکم دے ديا ہے۔

چیف جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پروین رحمان قتل کیس میں گرفتار ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے مقدمہ سست روی سے چلانے پر برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ ملک میں پروین رحمان جیسی شخصیات کم ہی ملتی ہیں، پروین رحمان کو قتل کردیا گیا اور کیس ابھی بھی چل رہا ہے۔ وکلا کی سرزنش کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وکلا کو بھی معاشرے میں اچھے لوگوں کا احساس ہونا چاہیے۔

کمرا عدالت میں موجود عامر منصوب ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ بالکل اچھی شخصیات کا احساس ہے ان کے قتل پر بھی افسوس ہے، انصاف کا ملنا سبب کا حق بنتا ہے۔

سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے کیس کی تفتیش سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ پولیس رپورٹ کے مطابق پروین رحمان قتل کیس میں 29 گواہ تھے، جس میں سے ابھی دس گواہوں کے بیانات قلمبند نہیں کیے گئے۔

بعد ازاں عدالت کی جانب سے ملزمان عمران سواتی ،ایاز خان اور امجد کی درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے مقدمے کو 2 ماہ میں نمٹانے کا حکم دے دیا۔ اس سے قبل انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے تمام ملزمان کی ضمانتوں کی درخواست مسترد کی تھی۔

قبل ازیں یاد رہے کہ چوبیس اپریل کو ڈائریکٹر اورنگی پائلٹ پروجیکٹ اور سماجی کارکن پروین رحمان کے قتل کی تحقیقات کیلئے قائم کی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی حتمی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی۔

رپورٹ کے مطابق پروین رحمان کے قتل کے بعد گوٹھوں کی ڈاکومنٹیشن کا کام رک گیا، جس کے باعث وہاں کے رہائشیوں کے لیے حقوق ملکیت سے لینڈ مافیا کیلئے قبضہ مشکل ہوا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ گوٹھ آباد اسکیم کے غلط استعمال سے سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے افراد نے فائدہ اٹھایا،اس کے علاوہ روزی گوٹھ کے معاملے میں پروین رحمان نے پچیس ایکڑ زمین کی نشاندہی کی، کہ حتمی الاٹمنٹ میں پچیس کے بجائے پچہتہر ایکڑزمین الاٹ کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اورنگی پائیلٹ پراجیکٹ کی ڈائریکٹر پروین رحمان کو سال 2013 میں کراچی کے علاقے منگھوپیر میں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کیا، جب وہ دفتر سے اپنے گھر واپس جا رہی تھیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube