Wednesday, October 20, 2021  | 13 Rabiulawal, 1443

کیا مہاجروں کے ’مسیحا‘ مصطفیٰ کمال کا سیاسی سفر ختم ہوگیا؟

SAMAA | - Posted: Oct 30, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 30, 2018 | Last Updated: 3 years ago

ایک عرصے تک ایم کیو ایم سے وابستہ اور 14 سال سندھ کے گورنر رہنے والے ڈاکٹر عشرت العباد کی سیاست میں واپسی متوقع ہے۔ سابق گورنر نے دو برس قبل نومبر میں پاکستان چھوڑا تھا۔

پاک سرزمین پارٹی کے سینیئر وائس چیئرمین انیس ایڈوکیٹ نے دو ہفتے قبل دبئی میں ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کی تصدیق ڈاکٹر عشرت العباد اور انیس ایڈوکیٹ کی جانب سے کردی گئی ہے۔

انیس ایڈوکیٹ نے سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات پارٹی قیادت کو اعتماد میں لینے کے بعد کی گئی۔ تاہم ذرائع کچھ اور ہی  کہہ رہے ہیں۔

انیس ایڈوکیٹ نے مزید بتایا کہ پاک سرزمین پارٹی متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) کی طرح نہیں ہے کیونکہ اس جماعت میں کوئی بھی شخص کسی سے بھی ملاقات کا حق رکھتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس ملاقات کا مقصد دیرینہ ساتھی کے ساتھ تعلقات دوبارہ معمول پر لانا تھا۔

پاک سر زمین پارٹی کے رہنما نے بتایا کہ ڈاکٹر عشرت العباد نے 14 سال بطور گورنر سندھ کام کیا ہے، کسی کو ان کی صلاحیتوں سے انکار نہیں، ان کے تجربے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ ڈاکٹرعشرت العباد کو اپنی پارٹی میں دیکھنا چاہتا ہوں، اگر وہ مان جائیں تو اپنی جماعت کو ان کی شمولیت کے لیے رضامند کرلوں گا۔

عشرت العباد اور مصطفیٰ کمال کے تعلقات

پاک سرزمین پارٹی کے رہنما کی سابق گورنر سے دبئی میں ہونے والی ملاقات کوئی معمولی بات نہیں۔ یاد رہے کہ چیئرمین پاک سرزمین پارٹی مصطفی کمال  عشرت العباد سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

مصطفیٰ کمال کے مطابق سابق گورنر سندھ کوئی عزت دار شخص نہیں، وہ کئی بار سابق گورنر کو رشوت العباد کے نام سے مخاطب کرتے رہے ہیں اور یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ سابق گورنر کبھی رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے تھے۔

ناصرف یہ بلکہ مصطفی کمال نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ڈاکٹرعشرت العباد نے 22 اگست 2016 کو الطاف حسین کی پاکستان مخالف تقریر کےبعد بھی بانی متحدہ سے تعلقات برقرار رکھے تھے۔

مصطفی کمال کا عروج و زوال

کراچی کے سابق مئیر اور ایم کیوایم کے سابق رہنما مصطفیٰ کمال نے نومبر 2013 میں بانی متحدہ الطاف حسین کے ساتھ سنجیدہ نوعیت کے اختلافات کے بعد سینیٹ کی نشست چھوڑ دی تھی۔

مارچ 2016 میں مصطفیٰ کمال کی دبئی سے کراچی واپسی ہوئی۔ وہ 30 ماہ دبئی میں گزار کرواپس آئے تھے۔ وہ اس جماعت کو حد درجہ نقصان پہنچانا چاہتے تھے جس کا انھوں نے اس وقت دفاع کیا تھا جب اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔

مصطفی کمال نے جب اپنی جماعت کے قیام کا اعلان کیا تھا، اس موقع پر میڈیا سے جذباتی خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین نے مہاجر قوم کو تباہ کردیا۔

مصطفی کمال کی جانب سے نئی جماعت کے اعلان کا ان کے سابقہ ساتھیوں نے خیرمقدم کیا تھا۔ اس اعلان کے چند روز بعد ہی پاک سرزمین پارٹی میں ایم کیوایم کے کئی رہنما شامل ہوگئے تھے۔

الطاف حسین کی کراچی پریس کلب پر 22اگست 2016 کو پاکستان مخالف تقریر کے بعد ایم کیوایم کے رہنماؤں پر کریک ڈاؤن شروع کیاگیا اور پارٹی کو تہس نہس کردیاگیا۔ ایم کیوایم رہنما پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے۔

اس موقع پر ایم کیو ایم کے قدرے بہتر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے پارٹی میں پاکستان کے لفظ کا اضافہ کیا اور یوں بظاہر ایک نئی جماعت ایم کیوایم پاکستان وجود میں آئی۔

تاہم ایم کیوایم پاکستان کوئی گل نہ کھلا سکی اور پارٹی کے اندر اختلافات جنم لیتے رہے جس سے پارٹی کمزور ہوتی چلی گئی۔

ایم کیوایم پاکستان کے کئی رہنما اور کارکنان اپنی جماعت سے وابستگی ختم کرتے ہوئے پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوتے رہے کیوں کہ بظاہر لگ رہا تھاکہ اسٹیبلشمنٹ کا جھکاؤ پاک سرزمین پارٹی کی طرف ہے اور ایم کیوایم پاکستان کو ختم کرکے پی ایس پی کو آزادانہ ماحول میں سیاست کی اجازت دی جائے گی۔

پھر وہ دن بھی آیا جب نومبر 2017 کی ایک شام کراچی پریس کلب میں ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفی کمال نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور دونوں جماعتوں کے انضمام کا اعلان کیا۔

چند ہی گھنٹوں بھی یہ اتحاد ٹوٹ گیا اور ڈاکٹر فاروق ستار نے ایک دھواں دھار پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفی کمال پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے جن میں انھیں مہاجر قوم کا مخالف اور اپنی شناخت بھلانے کامشورہ دینے والا رہنما کہا گیا۔

ایم کیو ایم، پی ایس پی کا ایک نام، نشان، منشور سے الیکشن لڑنے کا اعلان

اس وقت بھی مصطفی کمال کا دعویٰ تھا کہ وہ ایم کیوایم کے گڑھ میں اس کا مینڈیٹ باآسانی چھین لیں گے۔

سال 2018کے انتخابات کی تیاریوں کے لیے پی ایس پی نے بہت دعویٰ کئے۔ اس جماعت میں ایم کیوایم کے درجنوں کارکنوں سمیت متعدد سرکردہ رہنما بھی تھے جنھوں نے ماضی میں ایم کیوایم کے لیے کئی سیٹیں حاصل کی تھیں۔

صوبے میں کئی شہروں میں پی ایس پی کی قیادت اور رہنماؤں کی تصاویر اور بینرز آویزاں تھے۔ مصطفی کمال کو امید تھی کہ وہ سندھ میں ایم کیوایم پاکستان کے متبادل جماعت کی صورت میں سامنے آئیں گے۔

پھر انتخابات کا دن آپہنچا لیکن پی ایس پی کا ووٹر پولنگ اسٹیشن نہیں پہنچا اور اس جماعت نے صوبے اور وفاق میں ایک بھی نشست حاصل نہیں کی۔

اس وقت یہ سوال اٹھا کہ کیا مصطفی کمال اس ذمہ داری کے لیے درست شخص تھے جس کے تحت انھوں نے ایم کیوایم پاکستان کو کنارہ کش کرنے کا بیٹرا اٹھایا تھا۔ انتخابات میں پی ایس پی کی شرمناک کارکردگی کے بعد پارٹی کے اندر مصطفی کمال کی سیاسی حکمت عملی سے متعلق سوالات اٹھنے لگے۔

انتخابی نتائج کے بعد مصطفی کمال نے میڈیا میں نظر آنا کم کردیا اور ان کی شعلہ بیانی بھی ختم ہوگئی۔ سماء ڈیجیٹل سے بات کرتےہوئے ، پی ایس پی کے ایک رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاک سرزمین پارٹی چلانے کی مصطفی کمال کی حکمت عملی ناکام ہوگئی ۔ انھوں نے پارٹی چئیرمین  کو انتخابات میں ناکامی کا مورودِالزام ٹہرایا۔

پارٹی کے کارکن کاخیال ہےکہ ان کے چئیرمین نے بلاضرورت ایم کیو ایم کے حامیوں کو مشتعل کیا۔ لوگوں کے لیے الطاف حسین کو بھلانا آسان نہیں تھا، جنھوں نے 25 سال تک پارٹی کو ملک سے باہر بیٹھ کر چلایا۔

پی ایس پی کے ایک کارکن نے یہ خیال ظاہر کیا کہ مصطفی کمال کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے مہاجروں کی حمایت ترک کرنے کو کہا اور اپنے تشخص سے بڑا کام کرنے کی ٹھانی۔

کیا عشرت العباد کی واپسی پی ایس پی کے لیےفائدہ مند ہوگی؟

سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس کا خیال ہےکہ پی ایس پی کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے اور ڈاکٹر عشرت العباد سے پارٹی رہنما کی ملاقات اس غلطی کا مداوا ہے۔

مظہر عباس نے کہا کہ انتخابات کے بعد پی ایس پی بطور جماعت اور مصطفی کمال بطور سیاست دان کمزور ہوچکے ہیں۔ تاہم ان کے خیال میں مصطفی کمال کی جگہ متبادل قیادت لانا مسئلے کا حل نہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ایک خیال یہ بھی تھاکہ جس طرح 90 کے عشرے کے اوائل میں آفاق احمد کو سیاسی محاذ ہر متعارف کروایا گیاتھا،اس انداز میں مصطفی کمال کو سیاست میں دوبارہ لایا گیا اور اس سے پاک سرزمین پارٹی کو انتخابات میں نقصان پہنچا۔

سنئیر تجزیہ کار نے پیش گوئی کی کہ عشرت العباد سیاست میں بڑا نام تھا لیکن ان کی دوبارہ سیاسی میدان میں واپسی کوئی خاص اثر نہیں ڈالے گی۔

پی ایس پی کے ایک اور سینیر رہنما وسیم آفتاب نے کہاہےکہ یہ جماعت لوگوں کی خدمت کرنا چاہتی ہے۔ عشرت العباد سے رابطے کا مقصد سندھ کی سیاست کو درست سمت میں لانے کےلیے مشترکہ حکمت عملی پر سوچ و بچار تھا۔ تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ انیس ایڈوکیٹ نے اس ملاقات میں کسی نئی پارٹی کے قیام پر بات نہیں کی۔

مصطفی کمال کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟

مصطفی کمال انتخابات ہارنے کےباوجود سیاسی میدان میں موجود ہیں۔  ان کے کارکنوں کا کہناہے کہ پارٹی چئیرمین کواپنی حکمت عملی کا اثر نو جائزہ لے کر اپنے غصے پر بھی قابو کرنا ہوگا۔

مصطفی کمال کا تاثر ایک غصیلے شخص کا ہے جو اکثر بدزبانی پر بھی اترآتا ہے۔ ان کے قریبی حلقے اور پارٹی کے دیگر رہنما بھی کھلے عام اپنی جماعت کی ناکام پالیسی پر بات کرنے سے کترارہے ہیں۔

پی ایس پی میں پچھلے برس نومبر میں شامل ہونے والے ایم کیوایم کے سابق عہدے دار نے کہا ہے کہ سیاسی صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر حالات موافق نہ ہوئے اور مصطفی کمال نے پارٹی پر اپنی گرفت کھودی تو عوام کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube