Tuesday, November 24, 2020  | 7 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > Latest

پشاور میں جرائم کی روک تھام کیلئے سی سی ٹی وی کیمرہ سب سے طاقتور ہتھیار

SAMAA | - Posted: Oct 26, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 26, 2018 | Last Updated: 2 years ago

جرائم سے نبٹنے کیلئے سی سی ٹی وی فوٹیج کو اہم ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشاور میں جرائم کی نشاندہی کیلئے پولیس، حکومت حتیٰ کہ شہری بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن یہ کچھ مزید حیرت انگیز فوائد بھی رکھتی ہے۔ سی سی ٹی وی کے بڑھتے استعمال کے باعث لوگ خود کو زیادہ محفوظ تصور کرتے ہیں تو ساتھ ہی اس کی بدولت روزگار اور آمدنی کے مواقع میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اس کاروبار سے منسلک ایک ہول سیلر ڈیلر عدیل نے 16 دسمبر سال 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دہشتگرد حملے سے قبل ماہانہ بمشکل 100 کیمرے فروخت کیے جاتے تھے”۔ افسوسناک واقعے میں بچوں سمیت 149 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے بعد حکومت کی جانب سے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کیلئے متعدد سیکیورٹی اقدامات کو لازمی قرار دیا گیا جن کے تحت  گارڈز تعینات کرنے کےعلاوہ تعلیمی اداروں کیلئے 14 فٹ بلند بیرونی دیوار پر3 سے 4 فٹ اونچی خاردار تاریں اور سی سی ٹی کیمرے نصب کرنا شامل ہے۔

اب سی سی ٹی وی کیمرے دفاتر، اسکول، گورنمنٹ اداروں حتیٰ کہ گھروں کو بھی محفوظ بنانے کیلئے خریدے جاتے ہیں۔ یہ کاروبار اتنی وسعت اختیار کرچکا ہے کہ عام انتخابات میں بھی خیبر پختونخوا حکومت نے 15 کروڑ روپے کی لاگت سے حساس پولنگ اسٹیشنز کی نگرانی کیلئے 13 ہزار کیمرے نصب کروائے۔

ایک اندازے کےمطابق تقریبا 40 ہول سیلرز اور 500 سے زائد ریٹیلرز اس کام سے منسلک ہیں۔ اس کا سامان چین سے آتا ہے، ایک کیمرے کی قیمت 16سو روپے سے 3ہزار کے درمیان ہوتی ہے جبکہ کیبل 60 روپے فی میٹر کے حساب سے فروخت کی جاتی ہے۔

دس ہزار سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فروخت کا دعویٰ کرنے والے ایک ہول سیل ڈیلر سجاد نے بتایا کہ اپنے اطراف عمارتیں دیکھیں، سب میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوں گے، لوگ ان کے نتائج سے بہت مطمئن ہیں۔

پشاور کی ٹریفک پولیس نے بھی جی روڈ اور مین یونیورسٹی روڈ پر اپنے کیمرے نصب کیے ہیں۔ پولیس چیف قاضی جمیل کے مطابق ”گزشتہ سال محرم میں پولیس نے حساس مقامات پر 250 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے تھے”۔ ایک وقت تھا جب مجرم کی تلاش کافی مشکل کام لیکن سی سی ٹی وی کیمروں نے اسے آسان کردیا۔ پشاور میں اب ایک ہی کمی ہے۔ اسلام آباد اور لاہور کی طرح یہاں بھی سیف سٹی پروجیکٹس جیسے سینٹر لائزڈ نظام کی ضرورت ہے۔

نگرانی کرنے والے کیمرے اب صرف سییکورٹی ایجنسیوں تک ہی محدود نہیں بلکہ اسپتالوں میں بھی ان سے کام لیا جاتا ہے۔ لیڈی ریڈنگ اسپتال کے پی آر او ذوالفقار باباخیل نے بتایا، “ان کیمروں کی مدد سے ایک ماہ کے اندر پیش آنے والے کسی بھی واقعے کی نشاندہی کی جاسکتی ہے”۔ تمام شعبوں میں نصب ان کیمروں کی فوٹیج ہارڈ ڈسک پر محفوظ رہتی ہے۔ پی آر او کے مطابق “ان کیمروں کی مدد سے بتایاجا سکتا ہے کہ عملہ اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے یا نہیں”۔

جرائم کی نشاندہی کے علاوہ سی سی ٹی وی کیمروں کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ جرائم میں کمی لانے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ لوگوں کو یہ احساس رہتا ہے کہ ان کی نگرانی کی جا رہی ہے جس کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی۔

نجی ادارے میں کام کرنے والے شہری خالد خان نے بتایا کہ کیمروں سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ مجھے دیکھا جا رہا ہے اور میں دوسروں کے لیے خطرے کا باعث ہوں۔ خالد کے مطابق ”یہ عجیب سی صورتحال ہوتی ہے کہ آپ جانتے ہیں کچھ آنکھیں آپ پر ہی مرکوز ہیں، اسی لیے آپ جھجھکتے ہیں”۔

اس سہولت سے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی خوش ہیں کیونکہ کسی بھی دہشت گرد حملے کی صورت میں چند گھنٹوں میں سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آنے سے مشکوک افرادکی باآسانی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹی وی اور سوشل میڈیا پر بھی فوٹیج چلنے سے جرائم پیشہ افراد اور دہشتگردوں کی سوچ کسی حد تک تبدیل ہو رہی ہے۔ ایسے حملوں یا دیگر جرائم کی فوٹیج دیکھنے کے بعد دہشتگردی کیخلاف عوامی رائے ہموار ہوجاتی ہے۔

حکومتی ادارے میں کام کرنے والے ایک سیکیورٹی سپروائز نے بتایا کہ سی سی ٹی وی نصب کرنے سے لوگوں کی پریشانی کم ہوئی ہے کیونکہ شواہد کے لیے باآسانی فوٹیج نکالی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”اگر آپ کے چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو پھر آپ کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے”۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube