سردار حیدر زمان سے ’بابا‘ حیدر زمان تک کا سفر

October 24, 2018

بابا حیدر زمان پاکستان کے قیام سے قبل 1934 میں ایبٹ آباد کے گاؤں دیوال منال میں پیدا ہوئے۔ ان کا 82 سالہ سفر کچھ زیادہ غیر معمولی نہیں تاہم آخری عمر میں ان کی شخصیت ہزارہ کی سیاست میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرگئی تھی۔ یوں سمجھ لیں ایک وقت ایسا آیا کہ بابا حیدر زمان ہزارہ ڈویژن میں ’کنگ میکر‘ کی شکل اختیار کرگئے تھے۔ بابا حیدر زمان نے ’صوبہ ہزارہ‘ تحریک کو نئی زندگی دی لیکن آج وہ خود اپنی طبعی عمر پوری کرکے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔

بابا حیدر زمان کا تعلق بنیادی طورپر ہزارہ کے سردار کڑلال قبیلے سے بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے 50 کی دہائی میں ایف اے تک تعلیم حاصل کی اور پاکستان ائیر فورس میں ملازمت اختیار کی۔ ایئرفورس سے جلد ریٹائرمنٹ لینے کے بعد 1962  میں سردار حیدر زمان نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور 1962 کے الیکشن میں صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخابات میں حصہ لیا لیکن کامیابی حاصل نہ کرسکے۔

سیاسی زندگی میں پہلی کامیابی سردار حیدر زمان کو 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں ملی جس میں وہ ایبٹ آباد سے خیبر پختونخوا       (سابقہ صوبہ سرحد) اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ اس انتخاب کے نتیجے میں جب حکومت قائم ہوئی تو ارباب جہانگیر خان صوبے کے وزیراعلیٰ بن گئے۔انہوں نے سردار حیدر زمان کو اپنے کابینہ میں شامل کرکے محکمہ محنت و افرادی قوت کا قلمدان سونپ دیا۔

حیدر زمان ’سردار‘ سے ’بابا‘ کیسے بن گئے

حیدر زمان کے نام میں ’سردار‘ کی جگہ بابا نے کیسے لی یہ ایک دلچسپ کہانی ہے۔

جب سردار حیدر زمان 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں پہلی مرتبہ الیکشن جیت کر رکن اسمبلی بنے تو وہ عمر کے لحاظ سے تمام اراکین سے بڑے تھے۔ اسی وجہ سے سردار حیدر زمان نے دیگر تمام ارکان اسمبلی سے حلف لیا اور اسی دن کے بعد وہ ’بابا‘ کے نام سے مشہور ہوگئے اور ’سردار‘ حیدر زمان سے بابا حیدر زمان بن بیٹھے۔

بابا حیدر زمان پورے سیاسی کیریئر میں 2 مرتبہ ایبٹ آباد سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ایک مرتبہ ضلع ناظم ایبٹ آباد اورایک مرتبہ چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل ایبٹ آباد رہ چکے تھے۔ 1977 میں جمہوریت بحالی کی تحریک ’ایم آر ڈی‘ میں متحرک رہے جس کی پاداش میں گرفتار ہوکر جیل جانا پڑا۔

 

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم ہزارہ صوبے کا وعدہ پورا کریں، بابا حیدر زمان

 

انہوں نے زیادہ تر انتخابات آزاد حیثیت میں لڑے۔ تاہم وہ پاکستان مسلم لیگ جونیجو اور مسلم لیگ ق میں بھی رہے۔ بابا حیدر زمان نے 1990 اور 1993 میں میاں نواز شریف کے مقابلے قومی اسمبلی کی نشست کیلئے الیکشن لڑا مگر ناکام ہوگئے جس کی وجہ سے ان کا سیاسی کیئریر تقریباً ختم ہوکر رہ گیا مگر 2010 میں ’صوبہ سرحد‘ کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ ہوا جس نے بابا حیدر زمان کو ہزارہ میں طاقت کا مرکز بنا دیا اور یوں ایک ’شکست خوردہ‘ سیاست دان ’کنگ میکر‘ بن گیا۔

 ہوا یوں کہ 2008 کے عام انتخابات کے نتیجے میں وفاق میں پاکستان پیپلز پارٹی جبکہ خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت قائم ہوگئی۔ چونکہ ’صوبہ سرحد‘ کا نام تبدیل کرنا عوامی نیشنل پارٹی کے منشور کا حصہ تھا اور مرکز میں ان کے اتحادی پیپلز پارٹی کی حکومت تھی، اس لیے یہ مشن آسان ہوگیا۔

دوسری جانب ہزارہ ڈویژن کی سیاسی قیادت ایک طرف صوبہ سرحد کا نام تبدیل کرنے کی مخالف تھی تو دوسری جانب وقتا فوقتا ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کا معاملہ بھی چھیڑتے رہے تاہم یہ مطالبہ زور نہ پکڑ سکا تھا۔ لیکن 9 اپریل 2010 کو جب اٹھارویں ترمیم منظور ہوئی جس میں دیگر معاملات کے ساتھ صوبہ سرحد کا نام بھی تبدیل کرکے خیبر پختونخوا رکھ دیا گیا تو ہزارہ ڈویژن ’شعلوں‘ میں بدل گیا۔

 

یہ بھی پڑھیں: صوبہ ہزارہ تحریک کے قائد بابا حیدر زمان نے کالاباغ ڈیم کی حمایت کردی

 

نام کی تبدیلی پر ہزارہ ڈویژن سے اس قدر سخت ردعمل آیا کہ پرتشدد احتجاج کے دوران 7 افراد جان سے چلے گئے اور 200 کے قریب زخمی ہوئے۔ ایک ہفتے تک شاہراہ ریشم ہر قسم آمد و رفت کے لیے بند رہی۔ جلاؤ گھیراؤ اور پر تشدد واقعات میں اربوں روپے کے املاک کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ اس دوران ’ہندکو‘ بولنے والے علاقے دیگر زبانیں بولنے والوں کے لیے ’نوگو ایریا‘ بن گئے۔

اس احتجاجی تحریک کی سربراہی ’بابا حیدر زمان‘ نے کی۔ ہزارہ کی تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدان ایک چھتری تلے اکٹھے ہوئے اور ہزارہ کو الگ صوبہ بنانے کیلئے تحریک صوبہ ہزارہ کا بھرپور انداز میں آغاز کیا گیا جس میں بابا حیدر زمان کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الا قوامی میڈیا میں بھی بھرپور پزیرائی ملی۔ یہی بابا کی زندگی کا نقطہ عروج تھا جب ہزارہ میں سیاست دان خواہ کسی بھی پارٹی کے ہوں، بابا حیدر زمان کی ’آشیرباد‘ کو کامیابی کی ضمانت سمجھنے لگے۔

حالیہ عام انتخابات میں بابا حیدر زمان نے این اے 15 اور این اے 16 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے مگر 22 جون 2018 کو انہوں نے انتخابی سیاست کو خیر باد کہہ کر سردار گوہر زمان کو اپنا سیاسی جاں نشیں مقرر کر کیا اور الیکشن سے دستبرداری کا بھی اعلان کردیا۔

بابا حیدر زمان کا سیاسی سفر 22 جون کو اختتام پذیر ہوا تھا اور زندگی کا سفر 24 اکتوبر کو تمام ہوگیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا صوبہ ہزارہ تحریک بھی بابا حیدر زمان کے ساتھ منوں مٹی تلے دفن ہوجائے گی یا اس کو زندہ رکھنے کے لیے کوئی دوسرا حیدر زمان سامنے آجائے گا۔