Sunday, March 7, 2021  | 22 Rajab, 1442
ہوم   > Latest

مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم

SAMAA | - Posted: Oct 15, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 15, 2018 | Last Updated: 2 years ago

دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کیلئے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کردی گئی، حکومت اور اپوزیش کو برابر نمائندگی دی گئی ہے، 20 اراکین قومی اسمبلی اور 10 سینیٹر شامل ہوں گے، پہلے اجلاس میں کمیٹی سربراہ اور ٹی او آرز کا فیصلہ کیا جائے گا۔

رواں سال 25 جولائی کو عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت ملی مسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے دھاندلی کے بھرپور الزامات لگائے گئے، پی ٹی آئی نے اعلان کیا کہ مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس پر عملدرآمد کردیا گیا۔

حکومت نے مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی قائم کردی جس میں 20 ارکان قومی اسمبلی اور 10 سینیٹرز شامل ہوں گے، کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کو برابر نمائندگی دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر دفاع پرویز خٹک پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ ہوسکتے ہیں، تاہم سربراہ کا باضابطہ فیصلہ اور ٹی او آرز پہلے اجلاس میں طے کئے جائیں گے۔

پارلیمانی کمیٹی میں پرویز خٹک، شیریں مزاری، ،شفقت محمود،علی محمد خان عامر ڈوگر، اعظم سواتی، فروغ نسیم، محمد علی سیف، خوش بخت شجاعت، نعمان وزیر، رضا ربانی، جاوید عباسی، رحمان ملک اور عثمان کاکڑ کمیٹی کا حصہ ہون گے۔

کلثوم پروین، خورشید شاہ، پرویز اشرف، نوید قمر، اختر مینگل، مولانا عبدالواسع، احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، رانا تنویر اور مرتضیٰ عباسی بھی ٹیم میں شامل ہوں گے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube