سیاسی پارہ عروج پر،ضمنی انتخاب کی انتخابی مہم کا آخری روز

October 12, 2018

ملک بھر میں ضمنی انتخاب کیلئے انتخابی مہم کا آج آخری روز ہے، انتخابی مہم رات بارہ بجے ختم ہوجائے گی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی کی 11 اور صوبائی اسمبلی کی 26 نشتوں پر ضمنی انتخاب 14 اکتوبر کو ہو رہے ہیں۔

ضمنی انتخاب کے دوران پولنگ اسٹیشنز میں فوج تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جو الیکشن کے رزلٹ تک پولنگ اسٹیشنز میں تعینات رہی گی۔ تاریخ میں پہلی بار بیرون ملک مقیم پاکستانی انتخابی مہم میں حصہ لیں گے۔

 

جن حلقوں میں ضمنی انتخابات ہوں گے ان میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 35، این اے 53، این اے 56، این اے 60، این اے 63، این اے 65، این اے 69، این اے 103، این اے 124، این اے 131 اور این اے 243 شامل ہیں۔

 

صوبائی اسمبلیوں میں سے پنجاب اسمبلی کے 13، خیبر پختونخواہ کے 9 اور سندھ اور بلوچستان اسمبلی کے 2، 2 حلقوں میں ضمنی انتخاب ہوگا۔

 

ضمنی انتخاب پی پی 3، پی پی 27، پی پی 87، پی پی 103، پی پی 118، پی پی 164، پی پی 165، پی پی 201، پی پی 222، پی پی 261، پی پی 272، پی پی 292 اور پی پی 296 میں بھی ہوگا۔

 

پختونخواہ کے پی کے 3، پی کے7، پی کے 44، پی کے 53، پی کے 61، پی کے 64، پی کے 78، پی کے97 اور پی کے 99 میں پولنگ ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان کی خالی ہونے والی نشست این اے 35 پر ایم ایم اے کے زاہد اکرم درانی اور پی ٹی آئی کے مولانا نسیم اللہ شاہ جب کہ سابق ایم این اے ناصر خان اور عدنان خان آزاد حیثیت سے میدان میں ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان پی کے 97 پر وفاقی وزیرعلی امین گنڈا پور کے بھائی فیصل امین اور مولانا فضل الرحمان کے بھائی عبید الرحمان کے درمیان مقابلہ ہوگا، جب کہ پی کے 99 ڈیرہ پر اکرام اللہ گنڈا پور کے فرزند آغا اکرام اللہ میدان میں ہیں۔ ضمنی الیکشن میں وفاقی وزیر پرویز خٹک کے فرزند ابراہیم خٹک پی کے 61 اور بھائی لیاقت خٹک پی کے 64 سے اے این پی کے امیدوار نور عالم خان اور شاہد خٹک کے مدمقابل ہیں۔

 

پشاور کے حلقہ پی کے 78 پر پی ٹی آئی کے عرفان خان اور متحدہ اپوزیشن کی امیدوار ثمر ہارون بلور کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہو گا جب کہ پی کے 71 پر الیکشن 21 اکتوبر کو ہوگا۔

 

پی کے 44 پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے بھائی عاقب اللہ اے این پی کے غلام حسن کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ مردان میں پی کے 53 سے اے این پی کے احمد بہادر اور پی ٹی آئی کے عبدالسلام کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ پی کے 3 سوات سے پی ٹی آئی کے ساجد علی اور متحدہ اپوزیشن کے سردار خان، پی کے 7 پر پی ٹی آئی کے فضل مولا اور اے این پی کے وقار احمد خان قسمت آزمائی کریں گے۔

 

سندھ کے پی ایس 87 اور پی ایس 30 جبکہ بلوچستان کے پی بی 35 اور پی بی 40 میں ضمنی انتخابات ہوں گے۔

 

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قومی اسمبلی کے 2 اور صوبائی اسمبلیوں کے 7 حلقوں میں الیکشن ملتوی ہوا تھا جب کہ عام انتخابات میں زیادہ نشستوں پر جیتنے والوں نے 28 نشستیں چھوڑی ہیں۔