اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج شوکت عزیز صدیقی عہدے سے برطرف

October 11, 2018

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت صدیقی کو عہدے سے ہٹادیا گیا، صدر کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانے کی منظوری دے دی، وزارت قانون نے برطرفی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا۔

سپریم جوڈیشل کونسل نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر صدر مملکت سے جسٹس شوکت عزیزصدیقی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔

مزید جانیے : چیف جسٹس کا جسٹس شوکت صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں حساس ادارے سے متعلق راولپنڈی بار ایسوسی ایشن میں دیئے گئے متنازع بیان پر انکوائری چل رہی تھی۔

جسٹس شوکت صدیقی نے اپنی تقریر میں ایک حساس ادارے پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ وہ عدالتی معاملات میں دخل انداز اور فیصلوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ایک حساس ادارے نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد انور خان کاسی سے رابطہ کیا تھا اور انہیں کہا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ نواز شریف اور مریم نواز عام انتخابات سے قبل جیل سے رہا ہوں لہٰذا جسٹس صدیقی کو ضمانت کی درخواست کی سماعت کرنیوالے بینچ میں شامل نہ کیا جائے۔