مشاہد اللہ خان کے بھائی کو غیر قانونی تعیناتی کے الزام پر لندن سے واپس بلایا گیا

October 11, 2018

مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کے بھائی ساجد اللہ خان کو فواد چوہدری کے غیر قانونی تعیناتی کے الزامات کے بعد لندن سے واپس پاکستان بلالیا گیا۔ مشاہد اللہ خان کہتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا کہا ہے، میرا جھوٹ ثابت ہوا تو خود استعفی دے دوں گا،

ساجد اللہ خان لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے اسٹیشن منیجر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

ساجد اللہ خان کا کہنا ہے کہ مجھے بغیر کسی نوٹس کے واپس بلایا گیا، مشاہد اللہ کا بھائی ہونے کی سزا دی جارہی ہے، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ کسی شخص کو اس کا متبادل بھیجے بغیر واپس بلایا گیا ہو۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء سینیٹر مشاہد اللہ خان نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا، بولے کہ میرا بھائی مشرف دور میں ڈپٹی منیجر نیویارک تھا، میری وجہ سے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا، میرا سالہ مجھ سے پہلے پی آئی اے میں تھا۔

انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کی بربادی کو 43 سال پہلے ہماری بھرتی سے  جوڑا جا رہا ہے، میں 1974ء میں بھرتی ہوا تھا، یہ کہتے ہیں کہ 1990ء میں بھرتی ہوا، مجھے لوڈر کہا گیا حالانکہ وہ بھی نہیں تھا، مزدور ہونے میں کیا برائی ہے، ان کے پیدا ہونے سے پہلے بی اے، ایل ایل بی کیا تھا۔

صحافیوں میں گفتگو میں مسلم لیگ ن کے رہنماء کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ سے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کا کہا ہے، میرا جھوٹ ثابت ہوا تو خود استعفی دے دوں گا، وزیر اطلاعات نے جھوٹ بول کر معافی مانگی پھر الزامات شائع کرادیئے، یہ کہتے ہیں 13 رشتہ دار پی آئی اے میں ہیں لیکن میرا صرف ایک بھائی لندن میں تعینات تھا، اسے بھی عمران خان کی ہدایت پر واپس بلالیا گیا۔