چیف جسٹس نے کیلاش قبیلے کی زمینوں پر تجاوزات کا نوٹس لے لیا

October 11, 2018

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے چترال میں کیلاش قبیلے کی زمینوں پر قبضہ کرکے تجاوزات تعمیر کرنے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ حکام کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کرلیا ہے۔

کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سپریم کورٹ کو درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مقصود الملک نامی شخص ان کی زمین ہتھیانا چاہتا ہے۔

اس درخواست پر چیف جسٹس نے نوٹس لیتے ہوئے معاملہ 17 اکتوبر کو سماعت کے لئے مقرر کردیا ہے اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا، آئی جی خیبر پختون خوا اور ڈپٹی کمشنر چترال کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کردی۔

یہ بھی پڑھیں: کیلاش کی خواتین کو ہراساں کرنیوالا نوجوان گرفتار

واضح رہے کہ کیلاش قبیلے نے اس سلسلے میں پشاور ہائیکورٹ میں پہلے ہی رخواست دائر کر رکھی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ زمینوں پر قبضے کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔

کیلاش کوہ ہندوکش میں واقع ایک قبیلہ ہے جو صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں آباد ہے۔ کیلاش قبیلے کے علاقے کو پہلے کافرستان بھی کہا جاتا تھا۔ یہاں کے لوگ انتہائی تعلیم یافتہ اور پر امن سمجھے جاتے ہیں تاہم افغانستان کے سرحد کے ساتھ واقع ہونے کے باعث کچھ عرصہ سے کیلاش قبیلہ شدت پسندوں کی نشانے پر رہا اور ان پر متعدد حملے بھی کیے گئے۔

کیلاش کا علاقہ قدرتی خوبصورتی اور امن پسند باشندوں کے باعث پاکستان سمیت دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے اور سالانہ لاکھوں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔