حکومت کا نیو اسلام آباد ايئر پورٹ کے آڈٹ کا فیصلہ

October 11, 2018

وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں نیو ایئر پورٹ منصوبے کا جامع آڈٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔


وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ نیو اسلام آباد ایئر پورٹ منصوبے کو 38 ارب روپے میں مکمل ہونا تھا لیکن اب تک اس منصوبے پر 100 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ منگل کے دن نیو اسلام آباد ایئرپورٹ میں مسافروں کیلئے بنائے جانے والا بورڈنگ برج گر گیا تھا جس کی زد میں آکر ایک شخص زخمی ہوا۔

ہاؤسنگ اسکیم

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم مکمل محفوظ ہے اور اس پر حکومت پیسہ نہیں لگائے گی، جبکہ ہاؤسنگ اسکیم میں شمولیت کیلئے 250 روپے کا فارم ملے گا، سرکاری زمین پر پرائیوٹ سیکٹر مکانات تعمیر کرے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت لوگ مورگیج یعنی گروی پر مکانات تعمیر کروا سکتے ہیں، امریکا میں اب تک 75 فیصد، بھارت میں 11 فیصد اور پاکستان میں صرف 0.25 فیصد لوگ گروی پر مکانات تعمیر کروا چکے ہیں۔

ادارہ جاتی اصلاحات

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت نے پی آئی اے سمیت اہم اداروں کے سربراہان کی تقرری کی منظوری دی ہے،  ایئر وائس مارشل ارشد خان کو پی آئی اے کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے، ان کی تعیناتی میرٹ اور پیشہ ورانہ مہارت کی بنا پر کی گئی ہے، اس کے علاوہ محمد میاں سومرو چیئرمین نجکاری کمیشن اور عون عباس چیئرمین بیت المال مقرر کیے گئے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پی آئی اے 406 ارب روپے کی مقروض ہے اور ادارے کو ہر ماہ 2 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، اگست کیلئے پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی تنخواہ منظور کی گئی ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ 25 اکتوبر کو کے الیکٹرک اور شنگھائی الیکٹرک کے درمیان معاملات طے پا جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے سگریٹ مافیا کیخلاف بڑے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے، اسمگل شدہ موبائل فونز کیخلاف طریقہ کار وضع کرلیا ہے، رواں سال کے آخر تک غیر قانونی موبائل فون بھی بند ہوجائیں گے۔