Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

ٹیکس چوری پکڑنے کے لیے ’بگ ڈیٹا‘ اور مصنوعی انٹیلی جنس استعمال کرنے کا عندیہ

SAMAA | - Posted: Oct 8, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 8, 2018 | Last Updated: 3 years ago

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے گزشتہ  دنوں قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اشارہ دیا تھا کہ ’ٹیکس چوروں‘ کو پکڑنے کے لیے ’ بڑا ڈیٹا‘ اور ’مصنوعی اٹیلی جنس‘ کا استعمال کریں گے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’حساب کتاب ( الگورتھم ) کے نظام نے بہت ترقی کرلی ہے۔ ٹیکس جمع کرنے والے عالمی ادارے اب صرف روایتی طریقوں پر انحصار نہیں کرتے بلکہ ٹینکالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ ہم ٹیکس چوروں پر ہاتھ ڈالنے کے لیے گمنام ( Anonymised )  ڈیٹا کا استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

بڑا ڈیٹا کیا ہے

بڑا ڈیٹا ( Big Data ) کا مطلب یہ ہے کہ وہ ڈیٹا جو اتنا زیادہ ہو کہ ایک کمپیوٹر پر اس کا تجزیہ کرنا مشکل ہوجائے۔ مثلا اگر آپ مائیکروسافٹ ایکسل کے 4 گیگا بائٹس پر مبنی فائل کھول کر کام کرنا چاہتے ہیں تو کمپیوٹر کے لیے یہ فائل کھولنا ہی مشکل ہوجائے گا۔ اگر فائل کھل بھی جائے تو آپ کا کمپیوٹر یا تو انتہائی سست یا پھر مکمل ہینگ ہوجائے گا۔

اس کا تجزیہ کرنے کے لیے الگ ٹیکنالوجیز دستیاب ہیں۔ بینک اور ملٹی نیشنل کمپنیاں پہلے سے اپنے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لیے انہی ٹیکنالوجیز کا استعمال کرتی ہیں۔

مصنوعی انٹیلی جنس کیا ہے

مصنوعی انٹیلی جنس ( Artificial intelligence) کو سمجھنے کے لیے ایک مثال ملاحظہ کیجئے۔

اسماعیل ( فرضی نام) کا بینک اکاؤنٹ ہے لیکن وہ ٹیکس نہیں دیتا اور بینک بھی یہ بات جانتا ہے۔ اب بینک کے پاس اسماعیل کے بارے میں دیگر معلومات بھی ہیں جیسے کہ اسماعیل کہاں رہتا ہے، اس کی تعلیمی قابلیت کیا ہے، اس کے اثاثہ جات کیا ہیں اور شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ۔

دوسرا آدمی احمد ( فرضی نام) ہے۔ اس کا بھی بینک اکاؤنٹ ہے لیکن وہ ٹیکس ادا کرتا ہے اور بینک کے پاس احمد کے بارے میں بھی وہ تمام معلومات دستیاب ہیں جو اسماعیل کے بارے میں دستیاب ہیں۔ ہر بینک کے لاکھوں کسٹمرز ہوتے ہیں اور ان سب کا ڈیٹا بینک کے پاس موجود ہوتا ہے۔

اب بینک مصنوعی انٹیلی جنس کے ذریعے اسماعیل جیسے ٹیکس چوروں کی نشاندہی کرسکتا ہے۔ یعنی بینک بتا سکتا ہے کہ جن جن لوگوں کی معلومات اسماعیل سے ملتی جلتی ہیں وہ ٹیکس ادا نہیں کرتے۔ اور جن لوگوں کی خصوصیات یا معلومات احمد سے ملتی جلتی ہیں وہ ٹیکس چوری نہیں کرتے۔ لہٰذا بینک ان دونوں قسم کے لوگوں کو ٹیکنالوجی کے ذریعے الگ الگ کرسکتا ہے تاکہ متعلقہ اداروں کو ٹیکس چوروں کو پہچاننے میں آسانی ہو اور ان سے تفتیش کی جا سکے۔

اب اگر ایف بی آر کی بات کریں تو اس کے پاس بینکوں سے بھی زیادہ ڈیٹا ہوگا کیوں کہ وہ سرکاری ادارہ ہے اور سرکاری ادارے کو نادرا سمیت حکومت کے تمام اداروں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں: نان فائلرز کو نوٹسز جاری، ٹیکس ریٹرنز کی تاریخ بڑھادی، وزیر خزانہ

اسد عمر نے قومی اسمبلی میں تقریر کے دوران بڑا ڈیٹا اور مصنوعی انٹیلی جنس جیسے الفاظ استعمال نہیں کیے لیکن انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس نان فائلرز اور ٹیکس چوروں کا وافر مقدار میں ڈیٹا موجود ہے۔ انہوں نے یہ الفاظ اس لیے استعمال نہیں کیے کہ یہ عام استعمال میں نہیں ہیں۔ اکثر لوگوں کے سمجھ میں نہیں آتے۔

سال 2016 میں منعقدہ بین الاقوامی کمپیٹویشنل سائنس ( حساب کتاب کا علم) اور کمپیوٹیشنل انٹیلی جنس کانفرنس میں پیش کردہ ایک تحقیقی مقالہ کے مطابق بڑا ڈیٹا اور مصنوعی انٹیلی جنس کو استعمال کرتے ہوئے حکومتیں درجہ ذیل مقاصد حاصل کرسکتی ہے۔

1۔ اس کے ذریعے آڈٹ کی تعداد بڑھایا جاسکتا ہے۔ یعنی کم وقت میں زیادہ لوگوں کا آڈٹ ممکن ہوگا۔

2۔ ٹیکس چوری کی روک تھام یعنی جتنا بہتر الگورتھم اور تکینک استعمال ہوگا اتنا ہی ٹیکس چوری کے امکانات کم ہوں گے۔

3۔ پیچیدہ ٹیکس فراڈ کی تفتیش میں مدد ملے گی۔

4۔ ٹیکس جمع کرنے کے نظام میں بہتری آئے گی۔

5۔ تمام افراد اور کمپنیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں: حکومتی نا اہلی کے باعث تنخواہ دار طبقے پر مزید ٹیکس لگائے جانے کا امکان

پاکستان پر کیا اثر پڑے گا

اگر بگ ڈیٹا اور مصنوعی انٹیلی جنس کا ٹھیک استعمال ہوا تو پاکستان کے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا۔ ٹیکس آڈیٹر کے کام میں تیزی اور بہتری آئے گی۔

اگر اس کا استعمال ٹھیک طرح سے نہیں کیا گیا یعنی استعمال کرنا ہی نہ آیا یا جان بوجھ کر غلط استعمال کیا تو ان لوگوں کے لیے مسائل بنیں گے جو ٹیکس دیتے ہیں اور کسی ٹیکس فراڈ میں بھی ملوث نہیں ہیں۔

مثال کے طور پر احمد باقاعدگی سے ٹیکس دیتا ہے لیکن اگر بینک نے بگ ڈیٹا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا غلط استعمال کرتے ہوئے احمد کو بھی اسماعیل والی کٹیگری میں ڈال دیا تو پھر احمد کے لیے مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں۔

اس وقت یہ افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ ایک ’’مطلق العنان بڑا بھائی‘‘ ہماری زندگی کے ہر پہلو کی نگرانی کرے گا جیسے چین میں سوشل کریڈٹ سسٹم کے ذریعے شہریوں پر مکمل نظر رکھی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت سنسنی عروج پر ہے۔

نوٹ: اس اسٹوری کا انگلش ورژن پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube