Friday, August 14, 2020  | 23 Zilhaj, 1441
ہوم   > Latest

بغاوت کا مقدمہ،عدالت نے سرل المیڈا کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیدیا

SAMAA | - Posted: Oct 8, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 8, 2018 | Last Updated: 2 years ago

لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزرائے اعظم کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی سماعت 22 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے، جب کہ عدالت نے سرل المیڈا کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا۔ لاہور ہائی کورٹ میں تین رکنی لارجر بینچ نے جسٹس مظہر علی نقوی کی سربراہی میں سابق...

لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزرائے اعظم کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی سماعت 22 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے، جب کہ عدالت نے سرل المیڈا کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں تین رکنی لارجر بینچ نے جسٹس مظہر علی نقوی کی سربراہی میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور خاقان عباسی کے خلاف آڑٹیکل چھ کے کیس کی سماعت کی۔

 

سماعت کے آغاز میں جسٹس مظہر علی اکبر نے کہا کہ "کیا آج نواز شریف آئے ہیں، تو زرا اپنا چہرہ ہی دکھا دیں"، جس پر نواز شریف سیٹ پر کھڑے ہوگئے۔

 

اس کے بعد عدالت کی جانب سے پوچھا گیا کہ "کیا سرل المیڈا آئے ہیں"؟ جس پر ڈان اخبار کے صحافی سرل المیڈا بھی اپنی سیٹ پر کھڑے ہوگئے، جسٹس مظہر علی نقوی نے سرل المیڈا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے آپ کا نام اس لیے ای سی ایل میں ڈالا تھا کہ ہم آپ کی حاضری یقینی بنائیں، اب چونکہ آپ عدالت کے رو برو پیش ہوگئے ہیں، اس لیے آپ کا نام فوری طور پر ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیتے ہیں"۔

عدالت کے حکم پر فوری طور پر سرل المیڈا کا نام ای سی ایل سے نکال دیا گیا، جب کہ ان کے خلاف جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو بھی ختم کردیا گیا۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 22 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔ پیشی کے بعد نواز شریف واپس رائے ونڈ روانہ ہوگئے۔

پس منظر

سابق وزیراعظم نواز شریف کا نجی اخبار کے صحافی کو دیئے گئے متنازع انٹرویو میں کہنا تھا کہ عسکری تنظیمیں نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں اور ممبئی حملوں کے لیے پاکستان سے غیر ریاستی عناصر گئے، کیا یہ اجازت دینی چاہیے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز ممبئی جا کر 150 افراد کو ہلاک کردیں، بتایا جائے ہم ممبئی حملہ کیس کا ٹرائل مکمل کیوں نہیں کرسکے۔

 

نواز شریف کے بیان پر بھارتی میڈیا نے اسے پاکستان کے خلاف استعمال، جب کہ ملکی سیاسی رہنماؤں نے نواز شریف کے بیان کی شدید مذمت کی۔ انٹرویو کے شائع ہونے کے بعد نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازع بیان پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت ہوا، جس میں نواز شریف کے بیان کو بے بنیاد قرار دیا گیا اور اس کی مذمت بھی کی گئی۔

 

نواز شریف کے بیان کے بعد شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم کی حیثیت سے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور انٹرویو کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال سے آگاہ کیا۔

 

درخواست گزار نے اپنی درخواست میں مؤقف بھی اختیار کیا کہ نواز شریف نے متنازعہ انٹرویو دے کر ملک و قوم سے غداری کی جب کہ شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی سابق وزیراعظم کو بتا کر حلف کی پاسداری نہیں کی اس لیے دونوں کے خلاف بغاوت کی کارروائی کی جائے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube