Wednesday, October 27, 2021  | 20 Rabiulawal, 1443

تمام افغان نہ ہی دہشت گرد ہیں اور نہ ہی پاکستان پر بوجھ

SAMAA | - Posted: Sep 27, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 27, 2018 | Last Updated: 3 years ago


اگر سو افغان پناہ گزینوں میں سے دو جرائم میں ملوث ہیں تو کیا آپ سب افغانوں کو سزا دیں گے، یہ کہنا ہے کہ باسط افغان کا جو کہ پاکستان میں رہنے والے ایک پناہ گزین ہیں۔

جنگ کے دوران لاکھوں بے گھر ہونے والے افغان شہریوں میں ایک باسط بھی تھے جو 1987 کے بعد پاکستان آگئے۔ پاکستان میں اس وقت 23 لاکھ افغان پناہ گزین رہائش پذیر ہیں۔ پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق ان افغان پناہ گزینوں میں سے صرف 14 لاکھ کا حکومت کے پاس ریکارڈ ہے جبکہ باقی تعداد غیررجسٹرڈ ہے۔

باسط کہتے ہیں کہ ہمارے خاندان 1979 سے یہاں رہ رہے ہیں لیکن سال 2001 تک کسی بھی شہر میں کوئی حملہ نہیں ہوا تھا، ہم کیسے اس ملک کا برا سوچ سکتے ہیں جو ہمارے بچوں اور ان کے بچوں کو پالتا ہے ۔

باسط کو امید ہے کہ برے دنوں کا خاتمہ اب جلد ہوگا کیوں کہ وزیراعظم عمران خان نے افغان، بنگالی اور برمی پناہ گزینوں کو شہریت دینے کا اعلان کردیا ہے ۔

عمران خان کے اس فیصلے پر وہ لوگ شک و شبے کا اظہار کر رہے ہیں جن کو پاکستان کی معیشت اور ترقی میں افغان لوگوں کی خدمات کا علم نہیں ہے۔

اس فیصلے پر تنقید ہونے کے بعد وزیراعظم نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا اور کہا کہ تمام متعلقہ لوگوں سے مشاورت کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔

افغان پناہ گزین ہی پاکستان میں ہتھیاروں اور منشیات کا کلچر لے کر آئے ہیں، یہ کہنا ہے کہ جامعہ کراچی کے ایک طالب علم کا۔ حارث کا کہنا ہے کہ یہ لوگ ہمارے ملک کی معیشت پر بوجھ کے علاوہ کچھ نہیں۔

حارث کا کہنا ہے کہ ان افغان پناہ گزینوں کو شہریت بالکل بھی نہیں دی جانی چاہیے۔

مگر جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی پروفیسر ڈاکٹر شازیہ تبسم اس بات سے اختلاف رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے آنے والے یہ مہاجرین پاکستان میں کاروبار کر کے یہاں کی معیشت کی ترقی میں جو کردار ادا کررہے ہیں اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔

افغانوں کو شہریت دینے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے جامعہ کراچی کی معلمہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سالوں پہلے کیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق اگر افغان پناہ گزینوں کو شہریت دے کر قانونی حیثیت دی جائے تو حکومت زیادہ بہتر معاشی اور امن و امان سے متعلق پالیسیاں بنا سکتی ہے۔

صدر پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس جنید اسماعیل کہتے ہیں کہ ہجرت کے بعد افغانوں نے کراچی اور پشاور میں کاروبار شروع کیے، وہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرتے ہیں، پیسہ کماتے ہیں مگر بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکتے۔

جنید کا کہنا ہے کہ افغان تاجر وں نے متعدد مواقع پر استدعا کی ہے کہ چیمبر آف کامرس پاکستانی حکومت کے ساتھ یہ معاملہ اٹھائے۔ ان کے مطابق، ان کو شہریت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

صدر پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کا کہنا ہے کہ یہ افغان پناہ گزین پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے اور ملک میں مزید کاروبار اور فیکٹریوں کی بنیاد رکھیں گے۔

کراچی میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے ایک نمائندے حاجی عبداللہ کہتے ہیں کہ ہم ملک پر بوجھ نہیں ہیں۔ قالین فروشوں میں سے زیادہ تر کا تعلق افغان پناہ گزینوں سے ہے۔

حاجی عبداللہ کا ماننا ہے کہ ملک میں کام کرنے والے محنت کشوں میں ایک بڑی تعداد افغان پناہ گزینوں میں سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں پتا کہ لوگ دہشتگردی کا ہم سے ناطہ کیوں جوڑتے ہیں اگر ایسے کچھ لوگ ہیں جو جرائم میں ملوث ہیں تو حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف کاروائی کریں ۔

حاجی عبداللہ نے کہا کہ ہم ایسے شرپسند عناصر کی بیخ کنی کے لیے ان کی نشاندہی کریں گے تاکہ حکومت ان کا جڑ سے خاتمہ کرسکے، کیوں کہ یہ ہمارا اپنا ملک ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube