Thursday, January 20, 2022  | 16 Jamadilakhir, 1443

شانگلہ کا پوشیدہ خزانہ ’’مشروم‘‘ اور فوجی آپریشن

SAMAA | - Posted: Sep 25, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Sep 25, 2018 | Last Updated: 3 years ago

شانگلہ قدرتی حسن اور خاندانی روایات کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ شدید غربت میں بھی مبتلا علاقہ ہے، لیکن جو خاصیت اسے ممتاز بناتی ہے وہ یہاں پائی جانیوالی نباتاتی حیات کا تنوع ہے، اس میں سب سے قیمتی چیز کھائے جانے والے مشروم ’’کمبھیاں‘‘ ہیں۔

قدیم زمانے سے روایت چلی آرہی ہے کہ سیاہ آنکھوں کے ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ مشروم دیکھ سکتے ہیں اور اسکے ساتھ بہت دولت بھی کما سکتے ہیں۔

بیلے بابا کے علاقے کے رہنے والے ایک شہری پیرزادہ کا کہنا ہے کہ سال 2009ء کے موسم گرما میں پاک فوج کا آپریشن بلیک اسٹورم (کالا طوفان) پایۂ تکمیل کو پہنچا، جس کے بعد نقل مکانی کرنیوالے افراد اپنے گھر واپس لوٹ آئے اور مشروم تلاش کرنیوالے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔

 پیرزادہ کا کہنا ہے کہ آپریشن کے وقت وہ تمام خاندان والوں کے ساتھ خالی ہاتھ پشاور میں اپنے رشتہ داروں کے گھر رہائش پذیر تھے۔ پیرزادہ کہتے ہیں کہ جب ہم پشاور پہنچے، ہمارے پاس غذا کے طور پر صرف 2 کلو کے قریب مشروم اور چند مرغ تھے۔

پیرزادہ نے کہا کہ چند دن بعد ہمارا کزن جو کہ پشاور یونیورسٹی میں شعبہ ماحولیاتی سائنس میں زیر تعلیم تھا، اپنے ایک دوست کے ساتھ ہمارے پاس آیا، ہم نے ان کے سامنے مشروم بھون کر پیش کئے، اس مہمان دوست نے ہمیں مشورہ دیا کہ مشروم کو کھانے کے بجائے ان کو مقامی مارکیٹ میں بیچا جائے، جس سے سردیوں کے اس موسم میں خوب منافع کمایا جاسکتا ہے۔

مجھے اُس کی اِس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کیونکہ ہم ساری زندگی مشروم کو کبھی کچا اور کبھی پکا کر استعمال کرتے رہے ہیں، لیکن کبھی بھی کسی نے ان کو شانگلہ میں بیچنے کی بات نہیں کی۔

اس پس منظر کو بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پھر ہم نے باقی ماندہ مشروم پشاور کی زرعی یونیورسٹی کے ایک استاد کو 3 ہزار روپے میں بیچ دیئے۔

عمر زیب بیلے بابا میں مشروم اور دوسری جڑی بوٹیوں کو بیچنے والے ایک تاجر ہیں، ان کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن کے بعد لوگ گھروں کو واپس آگئے، جس کے بعد مشروم کا کاروبار بہت تیزی سے پھیلنے لگا، پہلے پہل اسکول جاتے ہوئے بچے اور مویشی چَراتی ہوئی خواتین مشروم جمع کیا کرتے تھے کیوں کہ یہ ہماری غذا کا مرکزی جزو ہے۔

عمر زیب نے مزید بتایا کہ شانگلہ ایک غربت زدہ علاقہ ہے، جہاں کھانے کو زیادہ کچھ دستیاب نہیں ہوتا، اس لئے ہر طرح کے مشروم ہمارے لئے نعمت سے کم نہیں ہیں، پس موجودہ حالات میں مشروم کا کاروبار بھی دن بدن بڑھتا جارہا ہے۔

 عمر زیب کہتے ہیں کہ وہ مشروم جمع کرنیوالے افراد سے تقریباً 50 سے 70 کلوگرام مشروم خریدتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ مشروم کی گھروں میں افزائش نہیں کی جاسکتی، یہ خودبخود پیدا ہوتے ہیں، جنہیں لوگ اچھے پیسے کمانے کی غرض سے بازار میں بیچتے ہیں۔

عمر زیب کا کہنا ہے کہ وہ بھی کالے یا پیلے مشروم کو اس کی کوالٹی کے حساب سے خریدتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ شانگلہ کی مارکیٹ میں ایک کلو گرام مشروم کی قیمت 17 ہزار روپے ہے جبکہ اسلام آباد کی مارکیٹ میں اس کی قیمت 20 سے 30 ہزار روپے تک جاتی ہے۔

عمر زیب کے مطابق پیلے رنگ والے مشروم کی نسبت کالے رنگ کے مشروم زیادہ مہنگے ہوتے ہیں۔

 سلیم خان بھی مشروم کے ایک تاجر ہیں، جو الپورائی تحصیل کے علاقے رحیم آباد میں کاروبار کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ پچھلے چند سالوں میں معاشی مشکلات، ماحولیاتی تبدیلی اور جنگ کی تباہ کاریوں کے باعث مشروم کی تجارتی قدر پر اثر پڑا ہے، قریب واقع پہاڑوں پر دہشتگردوں اور سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کے باعث کسی کو وہاں سے مشروم چننے کی ہمت نہیں ہوتی ہے۔

سلیم خان کا کہنا ہے کہ فوجی آپریشن کے 2 سالوں کے دوران مشروم چننے کی طرف کسی نے بھی دھیان نہیں دیا، مگر اب لوگ اپنے گھروں کو لوٹ آئے ہیں، پہلے لوگ مشروم کو دیسی گھی میں پکایا کرتے تھے، مگر اب یہ ڈش کبھی کبھار ہی تیار ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مشروم یورپ بھیجے جاتے ہیں جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ دوائی میں استعمال کی غرض سے جاپان اور چین بھیجے جاتے ہیں اور اس طرح مشروم کا کاروبار خوب ترقی کررہا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے تک تاجر مشروم کا خود بھی استعمال کرتے تھے مگر اب 130 گھروں پر مشتمل باقی نام کے ایک گاؤں کے تمام مکین موسم گرما میں مشروم تلاش کرتے ہیں کیونکہ ان کے علاقے میں یہ وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے۔

سلیم خان کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم کی ہر صبح لوگوں کو شلوار چڑھائے ہر وادی میں مشروم تلاش کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، ان کے مطابق 2 کلو گرام مشروم سے اس دور دراز علاقے میں 2 مہینوں کی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق مناسب موسمی حالات اور موزوں بارشیں مشروم کی پیداوار میں معاون ثابت ہوتی ہیں، مگر بارشوں کی صورتحال میں بدلاؤ اور اچانک آنیوالی ماحولیاتی تبدیلی نے مشروم کی پیداوار پر مضر اثرات مرتب کئے ہیں۔

الپورائی تحصیل کے مکینوں کیلئے عسکریت پسندی اگرچہ ایک لعنت ہے تاہم یہ مشروم کی شکل میں دولت کی فراوانی کا سبب بھی بنی ہے، ایک ایسا علاقہ جہاں آبادی کا بیشتر حصہ مویشیوں پر منحصر ہو اور جہاں سردی میں کوئلے کی کانوں میں کام کیا جاتا ہو اور آس پاس کے پہاڑوں سے پودوں اور جڑی بوٹیوں کو جمع کیا جاتا ہو، ایسے حالات میں مشروم ایک بڑی نعمت ثابت ہوئے ہیں، جن کی وجہ سے لوگ معاشی استحکام سے مالا مال ہوئے ہیں۔

اکثر لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں مشروم کی عالمی مارکیٹ میں قیمت کا نہیں پتا اور علاقے کا تاجر ہی اس کی قیمت کا تعین کرتا ہے۔

سید شاہ (60 سالہ شہری) نے بتایا کہ مشروم کی پیداوار پیسہ بنانے کا آسان طریقہ ہے، اس سے قبل یہ کام اس لئے آسان نہیں تھا کیونکہ چیک پوسٹوں کی وجہ سے پہاڑوں پر جانا ممکن نہیں تھا اور وہاں عسکریت پسندی بھی تھی، تاہم اب ہم باآسانی وہاں جاسکتے ہیں اور مشروم تلاش کرسکتے ہیں بلکہ جنگجو بھی ان کا استعمال کررہے تھے۔

سید شاہ نے مزید بتایا کہ جو سیکیورٹی اہلکار وہاں تعینات تھے، انہوں نے بھی مقامی افراد سے مشرومز طلب کئے تھے، انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں جانتے کہ انہیں اس کی کیا ضرورت تھی مگر ہم نے الپورائی تحصیل میں گشت کرنیوالے ایک فوج کے کپتان کو کچھ مشرومز دیئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی مارکیٹس میں اگر اس کی اصل قیمت کا اندازہ ہوجائے تو وہ مقامی ڈیلرز کو اچھے داموں یہ فروخت کردیں۔

سید شاہ نے بتایا کہ علاقے میں صورتحال کی بہتری کے بعد لوگوں نے ادویات میں کام آنیوالے ان پودوں کی اصل قیمت کا اندازہ لگایا اور اب کئی لوگ اس کاروبار سے بلواسطہ اور بلاواسطہ منسلک ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube