فیکٹریوں کو زیر زمین پانی کی قیمت ادا کرنا ہوگی

September 14, 2018

سپریم کورٹ نے حکومت کو متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کے تقرر اور پنجاب میں قائم تمام سیمنٹ فیکٹریوں کے ماحولیاتی معائنے کا حکم دیدیا۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پنجاب کی منرل واٹر کمپنیوں کے پانی کے معیار پر ازخود نوٹس لیا اور ریمارکس دیئے کہ پورے پاکستان میں فیکٹریوں کو زیر زمین پانی کے استعمال کی قیمت دینا ہوگی۔

زیر زمین پانی کی قیمت سونے کے برابر ہے، اب مفت نہیں ملے گا۔ ملک بھر کی فیکٹریوں کو پانی کے استعمال کی قیمت دینا ہو گی۔

سیمنٹ فیکٹریاں کی ماحولیاتی آلودگی اور پانی کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے منرل واٹر کمپنیوں کی جانب سے زیر زمین پانی کے استعمال کا نوٹس لے لیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا منرل واٹر کمپنیاں زیر زمین کتنی مقدار میں پانی استعمال کرتی ہیں؟ پانی قیمت دیتی ہیں؟

عدالت نے ڈی جی فوڈ اتھارٹی کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ ازخود نوٹس کی سماعت ہفتے کو لاہور رجسٹری میں ہوگی۔

منصف اعلیٰ نے سیمنٹ فیکٹریوں کی جانب سے زیر زمین پانی کے استعمال کی قیمت کا تعین کرنے کی ہدایت کی۔

عدالت نے حکومت کو چئیرمین وقف املاک بورڈ کی تقرری کا حکم بھی دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے اب کوئی اقربا پروری یا سیاسی تقرری نہیں چلے گی۔

سیکٹر آئی 9 ماحولیاتی آلودگی کیس میں ڈی جی ماحولیات نے بتایا کہ فیکٹری مالکان ہمیں معائنے کیلئے رسائی نہیں دیتے۔

عدالت نے آئی نائن فیکٹریوں کے معائنے کیلئے ڈائریکٹر ایچ آر کو معائنہ افسر مقرر کردیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے فیکٹری مالکان کو عدالت کی طاقت کا اندازہ نہیں۔ معائنہ نہ کرنے دیا تو ضمانتی رقم پچاس لاکھ ضبط ہوجائے گی۔ جنھوں نے رقم جمع نہیں کرائی ان سے سود سمیت وصول کریں گے۔