حکومت کا تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس نہ بڑھانے کا فیصلہ

September 13, 2018

حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس اور گیس و بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فواد چوہدری کہتے ہیں کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں بے بنیاد ہیں، فنانس بل کابینہ اجلاس کے آج کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا، انکم ٹیکس آرڈیننس تبدیلی کیلئے پارلیمنٹ میں بھیجا جائے گا، بیرون ملک سے کھاد درآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وفاقی کابینہ نے وزارت کیڈ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ نے وزارت کیڈ ختم کرنے کی منظوری دیدی، ہارون شریف کو سرمایہ کاری بورڈ کا چیئرمین اور پی ٹی وی بورڈ کے چئیرمین کی تقرری کی منظوری بھی دی گئی، اجلاس میں ریگولیٹری اداروں کیلئے ٹاسک فورس بنانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ پاکستان نیوی ایکٹ 1961ء میں ترمیم بھی منظور کرلی گئی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ڈیم فنڈ کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کردیا جائے گا، ڈیم فنڈ بنانا چیف جسٹس کا نہیں سیاستدانوں کا کام تھا، فنڈ بنانے پر وفاقی کابینہ نے چیف جسٹس کو خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس نہیں بڑھایا جارہا، ٹیکس کی شرح میں فی الحال کوئی رد و بدل نہیں ہوگا، فنانس بل کابینہ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھا، انکم ٹیکس آرڈیننس میں تبدیلی پارلیمنٹ کرے گی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کررہے، ایسی خبروں سے پہلے تصدیق کرنی چاہئے۔

فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ سابق حکومت میں گرمیوں میں کھاد پلانٹس کو گیس نہیں دی گئی، کھاد پلانٹس کو گیس نہ ملنے سے یوریا کی پیداوار رک گئی، ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد درآمد کی جائے گی، بیرون ملک سے کھاد کی فی بوری 2550 روپے کی پڑے گی، جو 1650 روپے میں کسان کو فراہم کی جائے گی، کسان پر کوئی بوجھ نہیں پڑے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ میٹرو پروجیکٹس پر اخراجات کے آڈٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسلام آباد میٹرو پر 4.2 ارب روپے کی سبسڈی حکومت دیتی ہے،  پنجاب کے 3 میٹرو پروجیکٹس پر 8 ارب روپے سبسڈی کی مد میں خرچ ہوتے ہیں، صوبائی حکومت سبسڈی دینے سے انکار کردے تو یہ پروجیکٹ آج ہی بند ہوجائیں گے، پنجاب حکومت اخراجات برداشت کرسکے گی تو میٹرو چلائے گی، فیصلہ صوبائی حکومت کرے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ پشاور میٹرو پروجیکٹ 67 ارب روپے میں مکمل ہوگا، راولپنڈی، اسلام آباد میٹرو 45 ارب، ملتان میٹرو 29 ارب روپے میں بنی، پشاور کے پروجیکٹ پر حکومت کوئی سبسڈی نہیں دے گی، لاہور میٹرو کی بسیں کرائے پر ہیں، پشاور میٹرو کی بسیں اپنی ہیں۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ اورنج لائن ٹرین پروجیکٹ 250 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، اس خرچے میں خیبر سے کراچی کا ریلوے ٹریک ڈبل ہوسکتا تھا، اورنج ٹرین چلانے کیلئے حکومت کو ساڑھے 3 ارب روپے سبسڈی دینی پڑے گی، پورے پنجاب کا فنڈ ایک شہر پر لگانا دیگر شہروں کے لوگوں سے زیادتی ہے، لندن اور نیویارک میں بھی سبسڈی دی جاتی ہے تاہم یہ رقم ان ہی شہروں کے فنڈز سے نکالی جاتی ہے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے وزارت کیڈ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا، سی ڈی اے کو وزارت داخلہ کے ماتحت کردیا گیا ہے، سی ڈی اے نے چند دنوں میں ہزاروں کینال زمین واگزار کرائی، 34 ہزار 459 کینال زمین گیسٹ ہاؤسز کی ہے جسے کمرشل مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے گا۔

وہ کہتے ہیں کہ 5 سال کے دوران وزیراعظم ہاؤس نے 230 کروڑ کے اخراجات کئے، شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب 290 کروڑ روپے خرچ کئے، سابق گورنر پنجاب نے 129 کروڑ روپے جبکہ گورنر سندھ نے 140 کروڑ کے اخراجات کئے۔

گورنر اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اخراجات سے متعلق سوال کے جواب میں فواد چوہدری کا کہان تھا کہ وہ دستاویزات میرے پاس ابھی نہیں، سرکاری ہیلی کاپٹر ایئر ایمبولنس کیلئے دے سکتے ہیں۔