نواز شریف کو مفروضوں پر سزا سنائی گئی، جسٹس اطہر من اللہ

Sohail Rashid
September 12, 2018

احتساب عدالت نے مفروضے پر نواز شریف کو سزا سنائی، ایسی سزائیں برقرار نہیں رہا کرتیں۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے انتہائی اہم ریمارکس دے دیئے۔ ملزمان کے وکلاء کے دلائل مکمل ہوگئے، کل نیب پراسیکیوٹر اپنے دلائل دیں گے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کی معطلی سے متعلق شریف خاندان کی اپیلوں کی سماعت ہوئی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ احتساب عدالت نے مفروضے کی بنیاد پر بچوں کو نواز شریف کا زیر کفالت کہا، بچے دادا کے زیر کفالت بھی تو ہوسکتے ہیں، مفروضوں والے فیصلے برقرار نہیں رہتے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج نے مزید کہا کہ پہلے نواز شریف کا جائیداد سے تعلق ثابت ہو تو ہی الزام مریم نواز پر آئے گا، کیا کوئی ایسی دستاویز ہے جو نواز شریف کا جائیداد سے تعلق ثابت کرے۔

وکیل صفائی خواجہ حارث نے کہا کہ کسی گواہ نے نواز شریف کا جائیداد سے تعلق نہیں بتایا، کوئی شواہد بھی پیش نہیں کئے گئے۔ مریم کے وکیل بولے کہ سابق وزیراعظم کی صاحبزادی دادا کی زیر کفالت تھیں یہ بات استغاثہ نے بھی مان رکھی ہے۔

انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ جعلسازی کا الزام فرد جرم سے حذف ہوچکا تھا پھر اس پر سزا کیسے سنا دی گئی، کیپٹن (ر) صفدر کا تو پورے فیصلے میں ذکر ہی ایک سطر میں آیا، سزا دینے کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔

نواز فیملی کے وکلاء کے دلائل مکمل ہوگئے، آئندہ سماعت پر نیب پراسیکیوٹر دلائل دیں گے۔ جسٹس میاں گل حسن نے ریفرنس منتقلی سے متعلق غلط بیانی پر نیب کی سرزنش بھی کی، سماعت جمعرات تک ملتوی کردی گئی۔ ​