سابق وزیر داخلہ سرفراز بگٹی بلوچستان سے سینیٹر منتخب

September 12, 2018
 

بلوچستان میں سینیٹ کی جنرل نشست پر ہونے والے انتخاب میں بلوچستان عوامی پارٹی کے میر سرفراز بگٹی 37 ووٹ لے کر سینیٹر منتخب ہوگئے، ان کے مد مقابل متحدہ مجلس عمل کے امیدوار رحمت اللہ کاکڑ کو 20 ووٹ ملے۔

بلوچستان سے سینیٹ کی جنرل نشست کیلئے 4 امیدواروں کے درمیان مقابلہ تھا، بی اے پی کے سرفراز بگٹی اور ایم ایم اے کے رحمت اللہ کاکڑ کے علاوہ 2 آزاد امیدوار سابق نگراں وزیر اعلیٰ علاؤ الدین مری اور میر غلام دستگیر بادینی بھی سینیٹر بننے کی دوڑ میں شامل تھے، جبکہ آزاد امیدوار میر عامر رند نے الیکشن سے قبل دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا۔

سینیٹ کے انتخاب میں بلوچستان اسمبلی کے 61 میں سے 57 ارکان نے ووٹ کاسٹ کئے جبکہ 4 اراکین نے ووٹ نہیں ڈالا۔ نتائج کا اعلان ریٹرننگ آفیسر صوبائی الیکشن کمشنر نیاز احمد بلوچ نے کیا۔

واضح رہے کہ سینیٹ کی نشست میر نعمت اللہ زہری کے رکن اسمبلی منتخب ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی، انہوں نے 25 جولائی کو ہونیوالے عام انتخابات میں رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے کے بعد سینیٹ کی نشست چھوڑدی تھی۔

سینیٹر منتخب ہونے کے بعد میر سرفراز بگٹی نے میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کامیابی پر اپنی جماعت اور ساتھیوں کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا، میں سینیٹ میں بلوچستان کی مؤثر آواز بنوں گا اور بلوچستان کی جو تصویر گزشتہ چند ماہ میں وفاق میں پیش کی گئی اس کا مؤثر جواب دوں گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ ڈیولپمنٹ کا ہے، یہ مسئلہ جب تک دور نہیں کیا جاتا تب تک پسماندگی کا خاتمہ ممکن نہیں، ملک کے 46 فیصد حصےکو 70 ارب روپے سے ترقی نہیں دی جا سکتی، وفاق اور صوبے دونوں کواپنے رویوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔