پاکستان میں تین سال میں 500خواجہ سراء قتل، سیکریٹری لاء کمیشن

September 12, 2018

سپریم کورٹ میں سیکریٹری لاء کمیشن نے انکشاف کیا ہے کہ 3 سال میں 500 خواجہ سراؤں کو قتل کر دیا گیا۔ چیف جسٹس نے خواجہ سراؤں کیخلاف بلیو وینز نامی ویب سائٹ کا نوٹس لے لیا اور ریمارکس دیئے کہ یہ کون سی این جی او ہے جو غلط افواہیں پھیلا کر ملک کو بدنام کر رہی ہے؟۔

خواجہ سراؤں کے شناختی کارڈز سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی، سپریم کورٹ نے لاء کمیشن سے 2 ہفتے میں سفارشات طلب کرلیں۔

عدالت عظمیٰ نے 2  خواجہ سراؤں کو سپریم کورٹ میں ملازمت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا تمام درخواست گزاروں کے شناحتی کارڈز جاری ہوگئے؟۔ نادرا حکام نے بتایا کہ خواجہ سرا شناختی کارڈز بنوانے کیلئے نہیں آتے، ابھی تک صرف 342 کو کارڈ جاری ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ محض کارروائیاں نہیں ہونی چاہئیں، ہم خواجہ سراؤں کو قومی دھارے میں لا رہے ہیں، اُن کے معاشرتی مسائل حل ہونے چاہئیں۔

سیکریٹری لاء کمیشن نے انکشاف کیا کہ 2015ء سے اب تک 500 خواجہ سرا قتل ہوچکے ہیں، خیبرپختونخوا میں خواجہ سراؤں کو تذلیل اور جان لیوا دھمکیوں کا سامنا ہے۔

چیف جسٹس نے خواجہ سراؤں کیخلاف بلیو وینز نامی ویب سائٹ کا نوٹس لے لیا، ویب سائٹ کے مالک نسیم قمر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اس سائٹ کے ذریعے غیر ضروری معلومات پھیلائی جارہی ہیں، یہ کون سی این جی او ہے جو ملک کو بدنام کر رہی ہے۔  کیس کی مزید سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کردی گئی۔