پشاور میں عاشورہ تک افغان باشندوں کے داخلے پر پابندی عائد

September 12, 2018

پشاور انتظامیہ نے محرم الحرام کے دوران امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے یکم محرم سے عاشورہ تک 10 روز کیلئے افغان باشندوں کی شہر میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔

ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کا عکس

ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے جاری نوٹی فیکیشن کے مطابق افغان مہاجرین کی پشاور شہر اور کینٹ کے علاقوں میں داخلے پر بھی پابندی ہوگی۔

ڈپٹی کمشنر کے ترجمان ساجد خان نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کے دوران پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ناخوشگوار واقعات کی ر

وک تھام کے لیے شہر کے مرکزی کے علاقوں میں 10 محرم تک افغان باشندوں کی آمد و رفت بند کردی گئی ہے۔

ساجد خان کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں امام بارگاہیں واقع ہیں وہاں محرم کے دوران پشاور کے مقامی لوگ بھی نہیں جاسکتے۔

 اس لیے یہ پابندی کوئی انوکھا اقدام نہیں ہے۔ یہ پابندی شہر کے اندر مقیم افغان باشندوں پر لاگو نہیں ہوگی۔

ڈپٹی کمشنر کے اعلامیہ کے مطابق شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے جس کے تحت 10 محرم تک پشاور میں رینٹ اے کار اور موٹر سائیکل کے کاروبار پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ لاؤڈ اسپیکر کا استعمال بھی صرف اذان اور جمعہ کے خطبہ کیلئے کیا جا سکے گا۔

یکم محرم الحرام سے 10روز کیلئے ڈبل سواری پر بھی پابندی کر دی گئی ہے۔ اسی طرح امام بارگاہوں اور مساجد سمیت شہر کی تمام دیواروں پر وال چاکنگ کی بھی اجازت نہیں ہو گی جبکہ اسلحہ کی نمائش اورغیر رجسٹرڈ گاڑی کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

علاوہ ازیں دکانوں میں کھلے پیٹرول، کیروسین آئل اور ڈیزل کی فروخت سمیت تیزاب اور پٹاخوں کی فروخت پر مکل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ کالے شیشوں کے استعمال سمیت نفرت انگیز مواد کی چھپائی کی بھی اجازت نہیں ہو گی۔

امام بارگاہ اور ماتمی جلوسوں کے اطراف میں عمارتوں کی چھتوں پر کھڑے ہونے اورماتمی جلوس کے راستوں میں آنے والے ہوٹلوں میں اجنبی افراد کے ٹھہرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔