خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروق کا یوم شہادت

September 12, 2018

اسلامی سال کا پہلا دن یکم محرم الحرام خلیفہ ثانی حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یوم شہادت ہے۔

اس موقع پر خصوصی تقاریب منعقد ہوںگی، جن میں مقررین عظیم فاتح اور بہترین حکمران کے طور پر حضرت عمر فاروقؓ کی سیرت و کردار اور ان کے زہد و تقویٰ سے روشناس کرانے کے لئے اظہار خیال کریں گے۔

 

حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے دور اقتدار میں نہ صرف اسلامی مملکت فتوحات کی عظیم مثال قائم کی بلکہ اسلامی مملکت کو تاریخ انسانی میں پہلی مرتبہ فلاحی مملکت بنانے کا آغاز کیا۔ علاوہ ازیں اسلامی معاشی نظام کی بنیاد بھی حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں رکھی گئی۔ آپ نے سکیورٹی کے نظام کو مستحکم اور مضبوط بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے اور پہلی مرتبہ انٹیلی جنس کے نظام کی بنیاد رکھی۔

 

روایت ہے کہ حضرت عمر کو بائیس لاکھ مربع میل پر حکمرانی ملی۔ ان کا مشہور قول ہے کہ دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مرجائے تو قیامت کے دن مجھ سے پوچھا جائے گا۔

 

غزوات ہوں یا خلافت ، نظام عدل ہویا منافقین وکفار سے نفرت، حرمت شراب اور امہات المومنین کے لیے پردے کا مشورہ، پولیس کا محکمہ اور جیل کا نظام، فوجی چھاونیاں اور بیت المال، یہ سب حق وباطل میں فرق کرنیوالے فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد کی زریں یادیں ہیں۔

 

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ یکم محرم کو دارفانی سے کوچ کرگئے اور پھر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسلامی تاریخ کی ابتدا بھی قربانی سے ہوتی ہے اور ذوالحج میں قربانی کے ساتھ اسلامی سال اختتام پذیر ہوتا ہے۔