سابق خاتون اول کلثوم نواز انتقال کرگئیں

September 11, 2018

تین بار پاکستان کی خاتون اول رہنے والی بیگم کلثوم نواز68 برس کی عمر میں لندن میں انتقال کرگئیں۔ خاندانی ذرائع نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی ہے، کلثوم نواز کی میت پاکستان لائی جائے گی، شہباز شریف میت وصول کرنے لندن جائیں گے، ان کی تدفین جاتی امراء میں ہوگی۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز نے سماء سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کلثوم نواز منگل کی صبح  انتقال کرگئیں، مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے بھی کلثوم نواز کے انتقال کی تصدیق کی ہے، طبیعت خراب ہونے پر انہیں منگل کو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں، کلثوم نواز لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں زیر علاج تھیں۔

یہ بھی دیکھیں : نواز شریف کے ہر اچھے برے وقت کی ساتھی بیگم کلثوم نواز

کلثوم نواز گذشتہ 13 ماہ سے علیل تھیں، انہیں کینسر کا عارضہ لاحق تھا اور پچھلے برس اگست میں لندن کے اسپتال لایا گیا تھا، جہاں ان کے گلے کی سرجری اور کیمو تھراپی ہوئی تھی۔

کلثوم نواز کی طبیعت میں کئی ماہ سے اتار چڑھاؤ آتا رہا، رواں برس جون میں ان کی طبیعت بگڑ گئی اور انہیں وینٹی لیٹر پر منتقل کردیا گیا، نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے کئی بار لندن جاکر ان کی عیادت کی، اڈیالہ جیل جانے سے قبل نواز شریف اور مریم نواز لندن سے کلثوم نواز کی عیادت کرکے لاہور پہنچے تھے، جہاں سے انہیں راول پنڈی لایا گیا تھا۔

بیگم کلثوم نواز کی میت ہارلے اسٹریٹ کلینک سے ریجنٹ پارک مسجد منتقل کردی گئی۔ لندن میں موجود سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ سابق خاتون اول کی نماز جنازہ کا فیصلہ ان کے بیٹے کریں گے۔

شہباز شریف اپنے بھائی سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچ گئے، ان کے ہمراہ مریم نواز کی دو بیٹیاں اور داماد بھی ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان ملاقات جاری ہے، اس دوران چھوٹے میاں صاحب نے نواز شریف کو صبر کی تلقین کی، دونوں بھائی بیگم کلثوم نواز کی تدفین سے متعلق مشاورت کررہے ہیں۔

مزید جانیے : نواز شریف، مریم اور صفدر کو کلثوم نواز کی تدفین میں شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ

مشاہد اللہ سید کہتے ہیں کہ کلثوم نواز کی تدفین جاتی امراء میں ہوگی، ان کی میت جمعہ تک پاکستان پہنچے گی، اطلاعات ہیں شہباز شریف میت لینے جائیں گے۔

مسلم لیگ ن کے رہنماء محمد زبیر نے بتایا کہ شہباز شریف راولپنڈی جارہے ہیں جہاں وہ اڈیالہ جیل میں نواز شریف اور مریم نواز سے تعزیت کریں گے، شہباز شریف لندن جاکر کلثوم نواز کی میت وصول کریں گے، اڈیالہ جیل میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو کلثوم نواز کے انتقال کی اطلاع دے دی گئی ہے۔

بیگم کلثوم نواز کی میت وطن لانے کی کوششوں کے سلسلے میں پاکستانی ہائی کمیشن کا وفد فرسٹ سیکریٹری آصف خان کی سربراہی میں ہارلے اسٹریٹ گیا، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف خان نے کہا کہ ہائی کمیشن شریف خاندان سے ہر تعاون کیلئے تیار ہے۔

تفصیلات جانیں : بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر مختلف رہنماؤں کی تعزیت

کلثوم نواز کی 1970ء میں نواز شریف سے شادی ہوئی تھی، بیگم کلثوم نواز 1999ء سے 2002ء تک مسلم لیگ ن کی صدر بھی رہیں، وہ این اے 120  سے گزشتہ اسمبلی میں رکن قومی اسمبلی بھی منتخب ہوئی تھیں تاہم علالت کی وجہ سے وہ حلف نہ اٹھاسکیں۔

وزیراعظم عمران خان نے محترمہ کلثوم نواز کی وفات پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ حکومت کلثوم نواز کی فیملی اور لواحقین کو قانون کے مطابق تمام سہولیات فراہم کرے گی۔ عمران خان نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو ضروری سہولیات کی فراہمی میں معاونت کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی سابق خاتون اول بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔

عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ بیگم کلثوم نواز بہادر خاتون تھیں، ہمیشہ نواز شریف کی ڈھال بنیں، مشکل گھڑی میں مضبوط دیوار اور چٹان کی طرح کھڑی رہتی تھیں۔

بیگم تہمینہ دولتانہ سابق خاتون اول کے انتقال کی خبر سن کر رنجیدہ ہوگئیں، بولیں کہ بیگم کلثوم نواز سے بہت گہرا رشتہ تھا۔

مسلم لیگ نواز نے بیگم کلثوم نواز کی تدفن تک سیاسی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

اعتزاز احسن نے بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا، ساتھ ہی ان کی بیماری سے متعلق اپنے سابقہ بیان پر معذرت بھی کی، بولے کہ میری بات سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو معذرت چاہتا ہوں۔