ڈار کی وطن واپسی،عدالت نے حکومت سے پیشرفت رپورٹ طلب کرلی

September 11, 2018

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کےمعاملے پرسپریم کورٹ نے حکومت سے پیشرفت رپورٹ طلب کرلی۔ اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ برطانیہ کے ساتھ ملزمان کے تبادلے کا معاہدہ نہیں،انٹرپول کے ذریعے ہی مفرور ملزم کوواپس لایا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ میں اسحاق ڈارعدم پیشی کیس کی سماعت  ہوئی جس کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا ریاست کسی اشتہاری کو واپس نہیں لاسکتی؟ اس پرایڈیشنل اٹارنی جنرل نئیررضوی نے بتایا کہ صرف انٹرپول کے ذریعے ہی ملزم کوواپس لایا جاسکتا ہے،برطانیہ سے ملزمان کے تبادلے کے معاہدے پرکام شروع ہوچکا ہے۔ کوشش ہےکہ جلد سے جلد اسحاق ڈارکو واپس لایا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ اسحاق ڈار کی پاکستان کی جائیدادیں ضبط ہوچکی ہیں جبکہ بیرون ملک موجود جائیدادوں کا کھوج لگارہے ہیں ۔ انہوں نے عدالت سے تین روز کا مزید وقت دینے کی مہلت مانگ لی ۔ عدالت نے مفرورملزم کی وطن واپسی سے متعلق پیشرفت رپورٹ طلب کرکے سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی ۔