پشاور: میڈیکل ٹیسٹ لیک کروانے میں ملوث مزید 2 ملازمین گرفتار

Samaa Web Desk
September 11, 2018

پشاور پولیس نے میڈیکل کالج میں داخلہ کیلئے ایجوکیشنل ٹیسٹنگ اینڈ ایوالوایشن ایجنسی (ایٹا) کے زیر اہتمام منعقدہ ٹیسٹ کا پیپر آئوٹ کرنے میں 2 ملازمین کو گرفتار کرلیا ہے جن کے قبضے سے پیپر آئوٹ کرنے کے عوض وصول کئے گئے 9 لاکھ روپے نقد،32 لاکھ روپے کا گارنٹی چیک اور ڈائریکٹرایٹا کے دفتر اور سیکریسی آفس کے جعلی چابیاں بھی برآمد ہوگئی ہیں۔

ایس ایس پی انوسٹیگیشن نثار خان نے گزشتہ روز ملک سعد شہید پولیس لائن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایاکہ 19 اگست کو میڈیکل میں داخلہ کیلئے منعقدہ ایٹا ٹیسٹ کا پیپر آئوٹ ہونے کے بعد سی سی پی او نے خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی۔

خصوصی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پیپر آئوٹ کرنے میں ملوث 6 ملزمان حضرت علی، جمیل، پیر فضل الوہاب، عزت خان، محمود اور رحمن اللہ کو گرفتار کیا تھا، جنہوں نے دوران تفتیش مرکزی ملزمان کی نشاندہی کی۔

ملزمان کی نشاندہی پر خصوصی ٹیم نے فوری کارروائی کرکے ایٹا کے ڈرائیور ساجد ولد نصر اللہ سکنہ جٹی پایاں اور چوکیدار محمد اسحاق ولد دست محمد شگئی ہندکیاں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے پیپر کے عوض لی گئی نقدی 9 لاکھ اور 32 لاکھ کا چیک برآمد کرلیاجبکہ ان کے قبضے سے ڈائریکٹر ایٹا عاصم کے دفتر اور سیکریسی روم کی جعلی (ڈوپلیکیٹ) چابیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔

پولیس کے مطابق پہلے گرفتار ہونے والے چھ افراد میں سے اسکول ٹیچر فضل الوہاب نے مرکزی ملزمان کو 32 لاکھ کا گارنٹی چیک دے کر پرچہ خریدا جبکہ جمیل نامی گرفتارملزم نے 9 لاکھ روپے نقد دے کر پرچہ خرید لیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کے دن طالبعلم کے ہاتھ میں لیک ہونے والا پرچہ دیکھ کر اندازہ ہوا کہ پرچہ لیک ہوچکا ہے جس پر کارروائی کی گئی۔ پیپر لیک ہونے کے معاملے پر وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے تحقیقات کا حکم دیاتھا۔