بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا یوم وفات

September 11, 2018

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 70 ویں برسی آج 11 ستمبر کو ملک بھر میں منائی جارہی ہے۔

بانی پاکستان قائداعظم کے یوم وفات کے موقع پر گورنرسندھ، وزیراعلیٰ سندھ، تینوں مسلح افواج کے سربراہ اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے مزار قائد پرحاضری دی اور پھول چڑھائے گئے۔ آج کے دن کی مناسبت سے ملک بھر میں مختلف سیاسی، مذہبی اور سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام تقریبات و سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر پروگرامز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح ایک عہد کا نام ہے، قائد اعظم محمد علی جناح پچیس دسمبر اٹھارہ سو چھیتر میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز اٹھارہ سو بیاسی میں کیا، قائد اعظم اٹھارہ سو ترانوے میں اعلی تعلیم کے حصول کے لئے انگلینڈ روانہ ہوگئے جہاں آپ نے اعلی تعلیم حاصل کی، اٹھارہ سو چھیانوے میں قائد اعظم نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس آگئے۔

محمد علی جناح نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز انیس سو چھ میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت سے کیا تاہم انیس سو تیرہ میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی، آپ نے خود مختار ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کی خاطر مشہور چودہ نکات پیش کیے۔

قائد اعظم کی قیادت میں برِصغیر کے مسلمانوں نے نہ صرف برطانیہ سے آزادی حاصل کی، بلکہ تقسیمِ ہند کے ذریعے پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور آپ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔

پچیس دسمبر اٹھارہ سوچھیترکو کراچی میں جناح پونجا کے گھر جنم لینے والے بچے نے برصغیر میں نئی تاریخ رقم کی اور مسلمانوں کی ایسی قیادت کی جس کے بل پر پاکستان نے جنم لیا، بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیتے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح ان میں سے ایک ہیں، قائد اعظم محمدعلی جناح کی زندگی جرات، انتھک محنت، دیانتداری عزم مصمم، حق گوئی کا حسن امتزاج تھی، برصغیر کی آزادی کے لئے بابائے قوم کا مؤقف دو ٹوک رہا، نہ کانگریس انہیں اپنی جگہ سے ہلا کسی نہ انگریز سرکار ان کی بولی لگا سکی۔

شیکسپیئر کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ پیدائشی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ اپنی جدوجہد اور کارناموں کی بدولت عظمت پاتے ہیں۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنی جدوجہد اور لازوال کارناموں کی بدولت عظمت کے میناروں کو چھوتے ہیں۔

جہاں ایک طرف اقبال نے اپنی انقلابی شاعری سے قوم کو جھنجوڑا وہاں آپ نے اپنی سیاسی بصیرت، فہم و فراست اور ولولہ انگیز قیادت کے ذریعے ان کو آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر یکجا کیا۔ یوں پاکستان کا قیام جو بظاہر دیوانے کا خواب دکھائی دیتا تھا ممکن بنا۔ وہ پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنے کے خواہاں تھے لیکن ان کی بیماری نے ان کے تعمیری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا اور مسلمانانِ پاکستان 11 ستمبر 1948ء کو اپنے اس عظیم رہنما کی قیادت سے محروم ہوگئے۔