شہبازشریف کی طرز سیاست ہمیشہ سے نواز شریف سے مختلف رہی ہے، مریم نواز

September 11, 2018

ARTWORK: AYESHA ATHER

مریم نواز نے اڈیالہ جیل میں سماء کے اینکر شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے کہا شہباز شریف کی طرزسیاست ہمیشہ سے ہی نواز شریف سے مختلف رہی ہے، وہ آج سے نہیں ہمیشہ سےاس قسم کی سیاست کے قائل ہیں۔

سماء کے اینکر شہزاد اقبال نے اڈیالہ جیل میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز سے ملاقات کی ، ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو اور سوال جواب کا احوال بتاتے ہوئے شہزاد اقبال نے بتایا کہ جب مریم نواز سے جیل میں سوال کیا کہ سنا ہے آپ جیل میں بچوں کو پڑھاتی ہیں؟ تو مریم نواز نے کہا کہ میں کسی کو نہیں پڑھاتی، مجھے کسی سے بات کرنے کی اجازت نہیں بس کمرے کے احاطے میں چہل قدمی کی اجازت ہے۔

سوال کیا کہ جیل سے لیڈر بن کرنکلیں گی؟ مریم نے جواب دیا دیکھیں قسمت کہاں لے کرجاتی ہے، سوال کیا کہ شہبازشریف کی طرزسیاست سے مطمئن ہیں؟ تو مریم نے جواب دیا کہ شہبازشریف پارٹی کی قیادت کررہے ہیں، شہبازشریف کی سیاست نوازشریف سے مختلف رہی ہے۔

سوال کیا کہ لگتا ہے پارٹی آپ کو بھلا چکی ہے؟ اس پر مریم نے جواب دیا کہ میرے پاس اس حوالے سے زیادہ اطلاعات نہیں، سوال پوچھا کہ لیکن آپ کوجیل میں اخبار تو ملتا ہے، تو جواب دیا کہ جیل میں جو اخبار ملتا ہے وہ کئی جگہ سے کٹا ہوا ہوتا ہے۔

سوال کیا گیا کہ ڈیل یا این آراو کی تلاش میں ہیں؟ مریم نے کہا کہ ڈیل یا این آر او کرنا ہوتا تو بہت پہلے کرلیتے، پھرسوال کیا کہ عمران خان وزیراعظم بن گئے، کیا مبارکباد دیں گی؟ لیکن مریم نوازنے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

سوال کیا کہ شہبازشریف کی زیرقیادت عوام باہر نہیں نکلے مایوسی ہوئی؟ اور بطور پارٹی صدرشہبازشریف کی کارکردگی سے مطمئن ہیں؟ تو مریم نواز نے جواب دیا کہ پارٹی ابھی مشکل میں ہے مگرحالات ایک سے نہیں رہتے، شہبازشریف پارٹی کی قیادت کررہے ہیں۔

دوبارہ سوال کیا گیا آپ شہبازشریف کی کاردگی سے مطمئن ہیں؟ تو جواب دیا کہ شہبازشریف کی طرزسیاست ہمیشہ سے ایسی ہی رہی ہے، وہ آج سے نہیں ہمیشہ سے اس قسم کی سیاست کے قائل ہیں۔

سوال کیا کہ پارٹی آپ لوگوں کی رہائی کے لئے کوئی تحریک نہیں چلارہی؟ لگتا ہے پارٹی آپ دونوں کو بھلا کر آگے بڑھ چکی ہے؟ مریم نواز نے تاخیر سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے میرے پاس تفصیلات نہیں۔

سوال ہوا کہ مقدمات میں ضمانت مل جائے گی؟ تو مریم نے کہا کہ ضمانت ہماراقانونی حق ہے، امید تو ہے مگرکچھ کہہ نہیں سکتی، سوال کیا کہ وطن واپسی پرجیل یا بریت کےعلاوہ بھی ذہن میں کوئی آپشن تھا؟  تو مریم نے جواب دیا کہ بس2ہی آپشنزکے ساتھ وطن واپسی آئے، تیسرا کوئی آپشن نہیں، جس پر سوال کیا کہ تو کیا میاں صاحب اس عمر میں10سال جیل کاٹنے آئے ہیں؟ مریم نے جواب دیا آپ دیکھ سکتے ہیں ہم سزا ملنے کے بعد ہی پاکستان واپس آئے۔

اس موقع شہزاد اقبال نے میاں نواز شریف سے سوال کیا کہ 99 اور آج کی جیلوں میں کیا فرق ہے؟ جس پر نواز شریف نے کہا کہ اس بارے میں پھر کبھی بات کریں گے بس آپ لوگ دعائیں کریں، سوال کیا کہ کون کس کو حوصلہ دیتا ہے؟ نواز شریف نے کہا کہ دونوں ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں۔

سوال ہوا کہ جیل سے قوم کے نام کوئی پیغام؟ تو نواز شریف نے کہا کہ قوم سے کہنا چاہتا ہوں ہم پر کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی، کہیں نہیں لکھا ہمارے فلیٹس کی کتنی مالیت ہے، پھر کیسے کہہ سکتے ہیں ہمارے اثاثے آمدن سے زیادہ ہیں۔