سی پیک پر نظر ثانی کا بیان، اپوزیشن جماعتوں کا تحفظات کا اظہار

September 10, 2018

مشیر صنعت و تجارت کے بیان پر اپوزیشن نے شدید تحفظات ظاہر کئے ہیں، شہباز شریف نے کہا قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہونے جارہی ہے۔ فضل الرحمان نے کہا سی پیک ختم کرنا پاکستان پر کاری ضرب ہوگا۔ احسن اقبال کہتے ہیں غالباً پی ٹی آئی کو حکومت میں اسی لئے لایا گیا کہ سی پیک کو سبوتاژ کرسکے۔

مشیر تجارت کے سی پیک سے متعلق بیان پر اپوزیشن جماعتوں نے شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔ غیر ملکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت چین پاکستان اقتصادی راہداری معاہدوں پر نظر ثانی کرے گا۔

اپوزیشن جماعتوں نے سی پیک معاہدوں پر نظر ثانی کی خبروں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ سی پیک گیم چینجر ہے، اس پر سمجھوتہ قبول نہیں، سی پیک پاکستانیوں کیلئے نعمت سے کم نہیں، منصوبے کو منجمد کرکے کفران نعمت نہیں کرنا چاہئے۔

انہوں نے حکومت کی فیصلہ سازی پر سوال اٹھادیا، بولے کہ گیس، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا باقاعدہ میڈیا پر اعلان ہوا، اب ای سی سی اجلاس میں گیس قیمتوں میں اضافہ مؤخر کرنے کی خبر آئی، فیصلوں سے کیا تاثر دیا جارہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان بھی سی پیک معاہدے پر بول پڑے، کہا کہ سی پیک ختم کرنا پاکستان پر کاری ضرب ہوگا، چین سے دوستی بچے بچے کے دل میں ہے۔

سابق وزیر داخلہ چوہدری احسن اقبال نے سی پیک منصوبوں پر نظرثانی کی خبر کو پاکستان کے مستقبل سے کھیلنے کی کوشش قرار دیا، بولے کہ پی ٹی آئی حکومت کو غالباً لایا ہی اس لئے گیا ہے، ان کا مقصد منصوبے کو سبوتاژ کرنا ہے، توانائی کو ترجیح نہ بناتے تو آج خانہ جنگی کی صورتحال ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ شاید بلی تھیلے سے باہر آرہی ہے،  کسی کو سی پیک سے پیچھے ہٹنے نہیں دیں گے۔