کیا پاکستان واقعی سی پیک معاہدوں پر نظر ثانی کررہا ہے؟

Samaa Web Desk
September 10, 2018

پاکستان تحریک انصاف چین پاکستان اقتصادی راہداری معاہدوں کے طریقہ کار اور ان کی شفافت سے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرتی رہی ہے، وفاقی  حکومت بناتے ہی پی ٹی آئی نے کئی معاہدوں پر نظر ثانی کا عندیہ دیا تھا، مشیر تجارت نے فنانشل ٹائمز کو دیئے گئے انٹرویو میں کھل کر اس بات کا اظہار کیا کہ ایک دہائی قبل کئے گئے معاہدوں میں چینی کمپنیوں کو غیر ضروری رعایت دی گئی۔

 مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے برطانوی اخبار کی خبر کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع کیا گیا۔

مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ فنانشل ٹائمز سے متعلق رپورٹ مسترد کرتے ہیں، چینی وزیر خارجہ کے دورے میں سی پیک سے متعلق عزم کا اعادہ ہوا، دونوں ممالک میں سی پیک کے مستقبل پر مکمل ہم آہنگی ہے۔

مشیر تجارت کے مطابق چینی حکام کو یقین دلایا گیا ہے کہ سی پیک قومی ترجیح ہے، چینی وزیر خارجہ کے دورے میں اسٹریٹجک تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا، حکومت پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔

تفصیلات پڑھیں : پاکستان کا سی پیک منصوبوں پر نظر ثانی کا فیصلہ

چینی وزیر خارجہ کو پاکستان سے گئے 24 گھنٹے بھی نہ گزرے کہ برطانوی اخبار نے بڑا دعویٰ کردیا۔ اپنی رپورٹ میں کہا کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں سی پیک معاہدے پر دوبارہ مذاکرات پر آمادگی کا اشارہ دیا ہے، جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان منصوبوں اور قرض ادائیگی کی مدت بڑھانے کے آپشن پر بھی غور کیا گیا۔

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی غیر ملکی اخبار کی خبر پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، شہباز شریف نے کہا قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہونے جارہی ہے۔ فضل الرحمان نے کہا سی پیک ختم کرنا پاکستان پر کاری ضرب ہوگا۔ احسن اقبال کہتے ہیں غالباً پی ٹی آئی کو حکومت میں اسی لئے لایا گیا کہ سی پیک کو سبوتاژ کرسکے۔