پاکستان قائداعظم کے ویژن سے ہٹ چکا ہے،چیف جسٹس ثاقب نثار

Samaa Web Desk
September 10, 2018

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ بیڈ گورننس اور ناانصافی معاشرے میں سرائیت کر چکی ہے، بنیادی حقوق کی فراہمی کیلئے عدالت نے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان قائداعظم کے ویژن سے ہٹ چکا ہے۔

نئے عدالتی سال کے فل کورٹ سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ڈیمز کی تعمیر کیلئے حکومت کو ہدایات دینا اہم ترین فیصلہ تھا، یہ سپریم کورٹ کا سب سے اہم کام تھا، عوام فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ نئے عدالتی سال میں ہمیں اہداف بلند رکھنے ہیں، گزشتہ سال کئی قومی اور انسانی نوعیت کے مقدمات سنے گئے، معاشرے میں نا انصافی اور بری حکمرانی قائم ہے، قانون کی حکمرانی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

 

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عوام کے پرجوش رد عمل پر شکر گزار ہیں، سپریم کورٹ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے، ہمیں انصاف کی فراہمی کے لیے نظام کی خرابیوں کو دور کرنا ہوگا۔

 

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میڈیا کو تنقید کی اجازت ہے لیکن اس قسم کی تنقید کی اجازت نہیں جو ججز کی توہین کے مترادف ہو، جب کہ وکلاء کی زیر التواء مقدمات پر بیان بازی بھی درست عمل نہیں، آرٹیکل 184/3 کے تحت حاصل اختیارات کے استعمال کے معاملے کو بھی دیکھ رہے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ غیر ضروری مقدمہ بازی پر درخواست گزاروں کو بھاری جرمانے ہونے چاہیں، انصاف کی فراہمی کیلئے مقدمات نمٹانے کا وقت متعین ہونا چاہیے، شہرت کیلئے کیے گئے کئی عدالتی فیصلوں سے ریاست کو اربوں روپے کا نقصان ہوا، ماضی میں کئی عدالتی فیصلے بین الاقوامی قوانین کیخلاف کیے گئے، بنیادی حقوق کیخلاف قانون سازی عدالت کالعدم قرار دے سکتی ہے، عدلیہ کو اپنی آزادی ہر قیمت پر برقرار رکھنی چاہیے، انصاف ہونا چاہیے چاہے آسمان ہی کیوں نہ گر پڑے۔