پاکستان کا سی پیک منصوبوں پر نظر ثانی کا فیصلہ

September 10, 2018

برطانیہ کے معروف اقتصادی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی نئی حکومت نے چین کے ساتھ سی پیک معاہدے پر نظرِ ثانی شروع کردی ہے۔

چینی وزیر خارجہ کو پاکستان سے گئے چوبیس گھنٹے بھی نہ گزرے کہ برطانوی اخبار نے بڑا دعویٰ کردیا۔ رپورٹ کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں سی پیک معاہدے پر دوبارہ مذاکرات پر آمادگی کا اشارہ دیا ہے، جب کہ دونوں ملکوں کے درمیان منصوبوں اور قرض ادائیگی کی مدت بڑھانے کے آپشن پر بھی غور کیا گیا۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اقتصادی کونسل کو سی پیک منصوبوں کی مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ ادائیگیوں کی تفصیلات معلوم ہو سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان معاشی عدم استحکام کے باوجود عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے چھٹکارا چاہتا ہے جب کہ وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بجائے چین اور سعودی عرب سے بات چیت کی جائے گی۔

اقتصادی راہداری منصوبہ خطرے میں پڑ گیا

اس حوالے سے ماہرِ معاشیات اور وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ فی الحال تمام سی پیک منصوبوں پر ایک سال کیلئے عمل روک دینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاہدے ازسرِ نو کیے جائیں گے، جن سے چینی کمپنیوں کو ناجائز فائدہ پہنچ رہا ہے اور پاکستانی کمپنیاں نقصان میں ہیں۔ عبدالرزاق داؤد کے مطابق 'گزشتہ حکومت نے سی پیک پر چین کے ساتھ بہتر طور پر مذاکرات نہیں کیے، انہوں نے اپنا ہوم ورک صحیح سے نہیں کیا اور درست طرح سے مذاکرات نہیں کیے'۔

سی پیک کا ماسٹر پلان سامنے آگیا

دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک ووڈرو ولسن سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ سی پیک کی رفتار کو سست کرنا نواز شریف کی سابق حکومت کی پالیسی کے برعکس ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔

 

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزراء اور مشیروں کا ماننا ہے کہ حکومت سی پیک کے تحت سرمایہ کاری پر نظرثانی کرے اور تجارتی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کرے کیونکہ اس کے تحت چینی کمپنیوں کو غیرمنصفانہ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ برطانوی اخبار کو انٹرویو میں مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ سابق حکومت نے سی پیک پر چین سے بات چیت میں اپنی ذمے داری بخوبی نہیں نبھائی، تیاری کے بغیر مذاکرات اور معاہدے کرنے سے چین کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا اور چینی کمپینوں کو ٹیکس بریک اور دیگر مراعات دینے سے پاکستانی کمپنیاں نقصان میں ہیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری سے بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگا

برطانوی اخبار کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان ملائشیا کی طرح اس معاملے کو ہینڈل نہیں کرنا چاہتا۔ ملائشیا نے چین کے تعاون سے جاری پائپ لائن پروجیکٹ بند کردیئے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل ریل لنک معاہدے پر نظر ثانی کررہا ہے۔

سال2018 کراچی،گوادر کیلئے اہم ترین سال ہوگا

واضح رہے کہ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں کا جائزہ لینے کیلئے ایک 9 رکنی کابینہ کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کا چیئرمین وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار کو مقرر کیا گیا ہے، کمیٹی میں وزیر خارجہ، وزیر قانون اور انصاف، وزیر خزانہ، وزیر پیٹرولیم، وزیر ریلوے، وزیر مملکت برائے داخلہ اور مشیر برائے تجارت و ٹیکسٹائل، صنعت و پیداوار و سرمایہ کاری شامل ہیں۔