ایون فیلڈ ریفرنس کیس کیخلاف اپیلوں پر سماعت آج 10 ستمبر کو ہوگی

Samaa Web Desk
September 10, 2018

ایون فیلڈ ریفرنس سزا کیخلاف اپیلوں کی سماعت آج بروز پیر کو ہو رہی ہے۔ سزا کیخلاف اپیلیں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نے دائر کررکھی ہیں۔ کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کا ڈویژن بینچ کریگا۔

سپریم کورٹ کی جانب سے چار ستمبر کو پاناما ریفرنسز کی منتقلی کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی اپیل سماعت کے لیے مقرر کی گئی تھی۔ کیس کے ریکارڈ کی پیپر بکس مکمل تیار کرلی گئی ہیں۔ ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ گیارہ ہزار صفحات پر مشتمل ہے۔ سو، سو صفحات پر مشتمل والیم کی پیپر بکس تیار کی گئی ہیں۔ پیپر بکس کے چار چار سیٹ تیار کئے گئے ہیں۔

پاناما لیکس، سپریم کورٹ کا مکمل تحریری فیصلہ یہاں پڑھیں

اسلام آباد ہائیکورٹ ڈویژن کے بینچ میں جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن شامل ہیں، جو اپیلوں پر سماعت کریں گے۔ نواز شریف، مریم نواز اور محمد صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں پر بھی یہی بینچ سماعت کرے گا۔

تین بار کے وزیراعظم نواز شریف دوسری بار گرفتار، اڈیالہ منتقل

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے سزا پانے کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف نے زیر سماعت العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کو دوسری عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ اس سلسلے میں عدالت نے موسم گرما کی تعطیلات سے پہلے نیب کو نوٹس جاری کیا تھا۔

 

نواز شریف کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے دیگر دونوں ریفرنسز کو احتساب عدالت منتقل کرنے کا حکم دے دیا تھا، تاہم چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم نامہ سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا تھا۔

ایون فیلڈ کیس

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے 6 جولائی سال 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 برس قید اور جرمانے، مریم نواز کو مجموعی طور پر 8 برس قید اور جرمانے جبکہ کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

نیب ریفرنسز کا پس منظر

سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف 3 ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے، جو ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسمنٹ سے متعلق ہیں۔

نیب کی جانب سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بیٹوں حسن اور حسین نواز، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔ اس کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو سزا سنائی جاچکی ہے اور وہ اس وقت جیل میں ہیں۔

دوسری جانب العزیزیہ اسٹیل ملز اور 15 آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں نواز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حسن اور حسین نواز کو ملزم نامزد کیا گیا ہے، جو اس وقت زیرِ سماعت ہیں۔ نواز شریف کے صاحبزادے حسن اور حسین نواز اب تک احتساب عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت انہیں مفرور قرار دے کر ان کا کیس الگ کرچکی ہے۔

نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں تین ضمنی ریفرنسز بھی دائر کیے گئے، جن میں ایون فیلڈ پراپرٹیز ضمنی ریفرنس میں نواز شریف کو براہ راست ملزم قرار دیا گیا تھا جبکہ العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر نامزد ہیں۔