ڈاکٹر عارف علوی نے صدر مملکت کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

Samaa Web Desk
September 9, 2018

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی نے 13ویں صدر پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھالیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے منتخب صدر سے عہدے کا حلف لیا۔

ایوان صدر میں ہونے والی مختصر، سادہ اور پروقار تقریب میں وزیراعظم عمران خان، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل زبیر محمود حیات، چیئرمین سینیٹ،اسپیکر قومی اسمبلی وفاقی وزرا، گورنرز، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی،  اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالقدوس بزنجو اور دیگر معزز اراکین بھی موجود تھے۔ فہمیدہ مرزا اور شیخ رشید بھی تقریب میں موجود رہے۔ تقریب میں پاکستان کے دورے پر آئے سعودی وزیر اطلاعات اور چین کے وزیر خارجہ سمیت متعین سفیروں نے بھی شرکت کی۔

الوادعی گارڈ آف آنر،ممنون حسین ایوان صدر سے رخصت

حلف برداری کی تقریب میں تاجر کمیونٹی کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات بھی موجود تھیں۔ حلف اٹھانے کے بعد صدر مملکت نے حلف نامے پر دستخط کیے جس کے ساتھ ہی ممنون حسین کی پانچ سالہ مدت صدارت ختم ہوگئی۔

 

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی 4 ستمبر کو ہونے والی پولنگ کے نتیجے میں منتخب ہوئے۔ صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل اپوزیشن کے فضل الرحمان اور پیپلزپارٹی کے چوہدری اعتزاز احسن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ووٹنگ کے نتائج کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی کو 353 ووٹ، فضل الرحمان کو 185 اور چوہدری اعتزاز احسن کو 124 ووٹ ملے۔

 

نو منتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی نے زمانہ طالب علمی سے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والوں میں شامل تھے۔ پیشے کے اعتبار سے نو منتخب صدر ڈینٹسٹ ہیں، جو پہلی بار 2013 کے انتخابات میں کراچی سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

 

ملک کے 13 ویں صدر مملکت کے انتخاب کیلئے سینیٹ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 1100 سے زائد اراکین نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی، متحدہ اپوزیشن کے فضل الرحمان اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چوہدری اعتزاز احسن کے درمیان مقابلہ رہا۔ آئین کے تحت تمام صوبائی اسمبلیوں میں صدارتی الیکشن کے لئے ووٹ سب سے کم 65 ارکان والی بلوچستان اسمبلی کے ارکان کے برابر ہوتے ہیں، قومی اسمبلی، سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ایک ووٹ ہے۔

سینیٹ و قومی اسمبلی

سینیٹ اور قومی اسمبلی کے مجموعی نتائج کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی 212 ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے رہے، اعتزاز احسن کو 81 اور  فضل الرحمان کو 131 ووٹ ملے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی

بلوچستان اسمبلی کے 61 میں سے 60 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیا، ڈاکٹر عارف علوی کو 45 جب کہ  فضل الرحمان کو 15 ووٹ ملے، اعتزاز احسن بلوچستان سے کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے، جب کہ نواب ثنا اللہ زہری واحد رکن اسمبلی تھے جو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے نہیں آئے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی

خیبر پختونخوا اسمبلی کے 112 میں سے 111 اراکین نے صدارتی انتخاب کیلئے ووٹ ڈالا، آزاد رکن اسمبلی امجد آفریدی ووٹ کاسٹ کرنے نہیں آئے۔ کے پی اسمبلی سے ڈاکٹر عارف علوی کو 78، چوہدری اعتزاز احسن کو 5 اور فضل الرحمان کو 26 ووٹ ملے۔ فارمولے کے تحت خیبرپختونخوا اسمبلی سے ڈاکٹر عارف علوی کے 41،  فضل الرحمان کو 14 اور چوہدری اعتزاز احسن کے حصے میں 3 ووٹ آئے۔

سندھ اسمبلی

سندھ اسمبلی سے موصولہ نتائج کے مطابق 163 اراکین میں سے 158 نے صدارتی انتخاب میں حق رائے دہی استعمال کیا، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کو 56، پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن کو 100 جب کہ فضل الرحمان کو صرف ایک ووٹ ملا۔ سندھ اسمبلی میں صدارتی ووٹ کے فارمولے کے مطابق اعتزاز احسن کو 39 اور ڈاکٹر عارف علوی کو 22 ووٹ ملے۔

پنجاب اسمبلی

صدارتی انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کے 351 اراکین نے ووٹ ڈالے، 3 ارکان غیر حاضر رہے۔ ڈاکٹر عارف علوی کو پنجاب سے 33،  فضل الرحمان کو 25 اور اعتزاز احسن کو صرف ایک ووٹ ملا۔ نمائندہ سماء سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے پولنگ ایجنٹ خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں 18 ووٹ مسترد ہوئے، جن میں 12 ووٹ ن لیگ کے تھے، پیپلزپارٹی کے 2 اور پی ٹی آئی کے 4 ووٹ بھی مسترد ہوگئے۔