نئے صدر عارف علوی اتوار کو عہدے کا حلف اٹھائیں گے

September 9, 2018

سبکدوش صدر ممنون حسین کو مدت صدارت ختم ہونے پر الوداعی گارڈ آف آنر پیش کردیا گیا ہے، جب کہ نئے صدر عارف علوی اتوار کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

صدر ممنوں حسین نے گارڈ آف آنر کے بعد ایوان صدر کے ملازمین سے فرداً فرداً مصافحہ کیا، اس موقع پر صدر ممنون حسین نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ آئین وقانون کی پاسداری اور اچھی حکمرانی میں ہی وطنِ عزیز کی ترقی اور خوشحالی پوشیدہ ہے۔ ممنون حسین نے کہا کہ وہ عہدہ صدارت چھوڑتے وقت اس بات پر مطمئن ہیں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اپنے اختیارات اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے کام کیا۔ بعد ازاں وہ ایوان صدر سے روانہ ہوگئے۔

ترجمان ایوان صدر کے مطابق نومنتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی آج بروز اتوار پاکستان کے 13 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔

دوپہر ایک بجے نئے صدر پاکستان سے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار حلف لیں گے، تقریب حلف برداری میں وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزراء اور مسلح افواج کے سربراہان بھی شرکت کریں گے۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی 4 ستمبر کو ہونے والی پولنگ کے نتیجے میں ملک کے آئندہ صدر کی حیثیت سے منتخب ہوئے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ صدارتی انتخاب کی دوڑ میں شامل اپوزیشن کے فضل الرحمان اور پیپلزپارٹی کے چوہدری اعتزاز احسن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ووٹنگ کے نتائج کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی کو 353 ووٹ، فضل الرحمان کو 185 اور چوہدری اعتزاز احسن کو 124 ووٹ ملے۔

سینیٹ و قومی اسمبلی

سینیٹ اور قومی اسمبلی کے مجموعی نتائج کے مطابق ڈاکٹر عارف علوی 212 ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے رہے، اعتزاز احسن کو 81 اور  فضل الرحمان کو 131 ووٹ ملے ہیں۔

بلوچستان اسمبلی

بلوچستان اسمبلی کے 61 میں سے 60 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیا، ڈاکٹر عارف علوی کو 45 جب کہ  فضل الرحمان کو 15 ووٹ ملے، اعتزاز احسن بلوچستان سے کوئی ووٹ حاصل نہ کرسکے، جب کہ نواب ثنا اللہ زہری واحد رکن اسمبلی تھے جو اپنا ووٹ کاسٹ کرنے نہیں آئے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی

خیبر پختونخوا اسمبلی کے 112 میں سے 111 اراکین نے صدارتی انتخاب کیلئے ووٹ ڈالا، آزاد رکن اسمبلی امجد آفریدی ووٹ کاسٹ کرنے نہیں آئے۔ کے پی اسمبلی سے ڈاکٹر عارف علوی کو 78، چوہدری اعتزاز احسن کو 5 اور فضل الرحمان کو 26 ووٹ ملے۔ فارمولے کے تحت خیبرپختونخوا اسمبلی سے ڈاکٹر عارف علوی کے 41،  فضل الرحمان کو 14 اور چوہدری اعتزاز احسن کے حصے میں 3 ووٹ آئے۔

سندھ اسمبلی

سندھ اسمبلی سے موصولہ نتائج کے مطابق 163 اراکین میں سے 158 نے صدارتی انتخاب میں حق رائے دہی استعمال کیا، پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کو 56، پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن کو 100 جب کہ فضل الرحمان کو صرف ایک ووٹ ملا۔ سندھ اسمبلی میں صدارتی ووٹ کے فارمولے کے مطابق اعتزاز احسن کو 39 اور ڈاکٹر عارف علوی کو 22 ووٹ ملے۔

پنجاب اسمبلی

صدارتی انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کے 351 اراکین نے ووٹ ڈالے، 3 ارکان غیر حاضر رہے۔ ڈاکٹر عارف علوی کو پنجاب سے 33،  فضل الرحمان کو 25 اور اعتزاز احسن کو صرف ایک ووٹ ملا۔

نمائندہ سماء سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے پولنگ ایجنٹ خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی میں 18 ووٹ مسترد ہوئے، جن میں 12 ووٹ ن لیگ کے تھے، پیپلزپارٹی کے 2 اور پی ٹی آئی کے 4 ووٹ بھی مسترد ہوگئے۔

ملک کے 13 ویں صدر مملکت کے انتخاب کیلئے سینیٹ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 1100 سے زائد اراکین نے خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ پی ٹی آئی کے ڈاکٹر عارف علوی، متحدہ اپوزیشن کے فضل الرحمان اور پاکستان پیپلزپارٹی کے چوہدری اعتزاز احسن کے درمیان مقابلہ رہا۔ آئین کے تحت تمام صوبائی اسمبلیوں میں صدارتی الیکشن کے لئے ووٹ سب سے کم 65 ارکان والی بلوچستان اسمبلی کے ارکان کے برابر ہوتے ہیں، قومی اسمبلی، سینیٹ اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ایک ووٹ ہے۔