میئر کراچی وسیم اختر کی سرکاری گاڑی چھن گئی

September 8, 2018

لٹیروں کو کوئی لگام نہ ڈال سکا، دیدہ دلیری اتنی ہوگئی کہ کہ میئر کراچی وسیم اختر کی سرکاری گاڑی بھی چھین لی گئی۔ ایس ایچ او درخشاں ثناء اللہ کو علاقے سے 3 سرکاری گاڑیاں چھینے جانے پر عہدے سے معطل اور تنزلی کردی گئی۔

شہر قائد میں اسٹریٹ کرائم، موبائل اور گاڑیاں چھیننے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا، تقریباً ہر علاقے سے جرائم کی خبریں آرہی ہیں، لٹیرے اس قدر دیدہ دلیری ہوگئے کہ عام شہریوں کے بعد کراچی کے میئر وسیم اختر کی سرکاری گاڑی بھی چھین لی۔

ڈیفنس میں کار سوار اسلحہ بردار 3 افراد نے میئر کراچی کے ڈرائیور سَنی کو اسلحہ دکھایا اور جی ایس ڈی 999 نمبر پلیٹ کی سرکاری گاڑی لے اڑے، ایس ایچ او درخشاں ثناء اللہ کی تعیناتی کے بعد سے علاقے میں سرکاری گاڑی چھینے جانے کا یہ تیسرا واقعہ تھا۔

پہ در پہ واقعات کے بعد محکمہ پولیس میں ہلچل مچ گئی، ایس ایچ او درخشاں ثناء اللہ کو نا صرف عہدے سے معطل بلکہ ان کی تنزلی بھی کردی گئی۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی فیصل واؤڈا نے میئر کراچی کی گاڑی چھننے کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی سندھ کو نوٹس لینا چاہئے، پولیس کچھ کیوں نہیں کررہی۔

انہوں نے ایس ایچ او کی معطلی پر تنقید کی، بولے کہ میئر کراچی کی گاڑی چھیننے پر پولیس افسر کو کیوں معطل کیا گیا؟، عام پاکستانیوں کی گاڑی چھننے پر کوئی معطل نہیں ہوتا، جن کے بچے اغواء ہیں وہ بازیاب نہیں ہوئے، کیا کوئی افسر معطل ہوا؟۔