چین کاپاکستان کوہرممکن تعاون کایقین،سی پیک ترجیحات میں شامل

Samaa Web Desk
September 8, 2018

 

 

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہےکہ سی پیک حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے،پاکستان اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئےاستعمال نہیں ہونےدےگا جبکہ چینی وزیرخارجہ وانگ ژی  کاکہناتھاکہ چین کی خارجہ پالیسی میں پاکستان اہمیت کا حامل ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان اورچین کےدرمیان دفود کی سطح پرمذاکرات کےبعد پاکستان اورچین کےوزرائےخارجہ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی ۔ پاکستانی وزیرخارجہ کاکہناتھاکہ چینی وزیرخارجہ کا خیر مقدم کرتے ہیں۔وانگ ژی  نے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔ پاک چین دوستی کو عالمی سطح پرپذیرائی حاصل ہے۔

شاہ محمود نےبتایاکہ چین نے وزیراعظم عمران خان کو نومبرمیں دورے کی دعوت دی ہے۔ انھوں نے واضح کیاکہ ملک کی معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ شاہ محمود نے زوردےکر کہاکہ چینی باشندوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔ سی پیک حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ چین نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہا ہےاورچین نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں تعاون کایقین دلایا ہے۔ وزیرخارجہ کاکہناتھاکہ چین سے تعلقات میں کوئی تحفظات نہیں ہیں۔ مشترکہ طور پردہشتگردی سے نمٹنےپراتفاق ہوا چین میں پاکستانی برآمدات بڑھانے کے مواقعوں پر بات ہوئی۔

اس موقع پر چینی وزیرخارجہ وانگ ژی  نے کہا کہ پاک چین دوستی لازوال ہے۔ چین کی خارجہ پالیسی میں پاکستان اہمیت کا حامل ہے۔ دنیاسےدہشتگردی کاخاتمہ بھی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستان کےساتھ ہرشعبےمیں تعاون جاری رکھیں گے۔ وانگ ژی کا کہنا تھا کہ پاکستان دورے کا مقصد تعلقات مزید مضبوط کرنا ہے۔ انھوں نے کہاکہ شاہ محمود کے ساتھ ملاقات مثبت رہی،دوطرفہ تجارت میں اضافے پربھی تبادلہ خیال ہوا۔ پاکستان کےساتھ تعلقات مزیدمضبوط بناناچاہتےہیں۔

چینی وزیرخارجہ نے یقین دلایاکہ پاکستان سے غربت کے خاتمے کیلئےتعاون کریںگےاور پاکستان کودرپیش مسائل مل کرحل کرلیں گے ۔وانگ ژی نےبتایاکہ پاکستان کےساتھ جاری منصوبوں کومکمل کرینگے۔ سی پیک سےروزگارکےلاکھوں مواقع پیداہوں گے۔ انھوں نے سراہتےہوئے کہا کہ پاکستان نےدہشتگردی کےخلاف جنگ میں اہم کرداراداکیا۔

چین کی وزیراعظم عمران خان کو دورے کی دعوت

اس سے قبل پاک چین وزرائے خارجہ ملاقات کےبعد وفود کی سطح پر مذاکرات  ہوئے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاکستانی وفد جبکہ وانگ ژی نے چینی وفد کی قیادت کی ۔ مذاکرات میں سی پیک ، معاشی تعاون ، ثقافتی اور تعلیمی تبادلوں اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان مذاکرات میں دونوں ملکوں کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام اہم امور پر گفتگو ہوئی۔