ملک کی عدالتی تاریخ میں انوکھا کیس

September 7, 2018

نا باپ نے عمر بھر ایک روپے کی مدد کی ناں ہی کبھی حال پوچھا، پھر ولدیت کے خانے میں اس کا نام کیوں لکھوں، والد کی بے اعتنائی اور لاپرواہی کی شکار لڑکی نے انصاف کیلئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا دیا، ولدیت کے خانے سے باپ کا نام ختم کرنے کی درخواست کردی۔

درخواست گزار اٹھارہ سالہ تطہیر فاطمہ نے اپنے شناختی کارڈ اور تعلیمی ریکارڈ پر ولدیت کے خانے سے باپ کا نام ہٹانے کی استدعا کردی۔

سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا کہ اس کے والد نے پیدائش سے لے کر آج تک کبھی مدد نہیں کی، پھر ولدیت کے خانے میں خانہ پُری کیوں کروں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے بچے کی ولدیت کے خانے سے باپ کا نام ختم نہیں کیا جاسکتا، والد کو اپنے فرائض ادا کرنے ہوں گے، اگر والد خرچہ ادا نہیں کررہا تو باقاعدہ درخواست دیں۔

عدالت نے لڑکی کو انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے نادرا کو حکم دیا کہ ایک ہفتے میں اس کے والد کو تلاش کریں، انہیں باقاعدہ نوٹس جاری کیا جائے گا۔