پی ٹی وی حملہ کیس: عارف علوی صدارتی استثنیٰ لیں گے

September 7, 2018

نومنتخب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان ٹیلی ویژن ( پی ٹی وی) پر حملے سے متعلق مقدمے میں صدارتی استثنیٰ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گزشتہ روز اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی ( اے ٹی سی) عدالت میں پی ٹی وی حملہ کیس کی سماعت ہوئی جس میں عارف علوی کے وکیل علی بخاری پیش ہوئے۔ علی بخاری نے عدالت میں صدارتی استثنیٰ سے متعلق گفتگو نہیں کی۔

بعد ازاں عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی بخاری نے کہا کہ عارف علوی صدر مملکت منتخب ہوچکے ہیں۔ اس لئے وہ صدارتی استثنیٰ سے فائدہ اٹھائیں گے، جس کے تحت ان کے خلاف مجرمانہ مقدمات نہیں چلائے جاسکتے۔ اس سلسلے میں اے ٹی سی کے جج سید کوثر عباس زیدی کو آئندہ سماعت میں آگاہ کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 248 کے مطابق صدر اور گورنر کے خلاف ان کے عہدے کی مدت کے دوران کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جاسکتا، نہ ہی ان کے خلاف کسی بھی عدالت میں پہلے سے درج مقدمے کی کارروائی جاری رکھی جاسکتی ہے تاہم توہین عدالت کیس میں صدر اور گورنر کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔

سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف دو عہدے رکھنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران 13 دسمبر 2012 کو اسلام ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ صدارتی استثنیٰ حاصل کرنے کے لیے بھی عدالت سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ تحریک انصاف نے 2014 میں نواز حکومت کے خلاف 126 روزہ دھرنا دیا تھا۔ دھرنے کے دوران تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے کارکنان نے پارلیمنٹ ہاؤس اور وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ کیا اور مبینہ طور پر پی ٹی وی پر حملہ کیا۔ اس دوران شاہراہِ دستور پر تعینات پولیس اہلکاروں اور مظاہرین میں جھڑپ ہوئی اور پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے 50 مظاہرین نے مبینہ طور پر سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) عصمت اللہ جونیجو کو حملہ کر کے زخمی کیا تھا۔

اسلام آباد پولیس نے ان تمام واقعات کے مقدمات عمران خان، طاہر القادری، عارف علوی، اسد عمر، شاہ محمود قریشی، شفقت محمود اور راجہ خرم نواز گنڈاپور کے خلاف درج کئے جن میں انسداد دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں۔

نومبر 2014 میں عدالت نے پولیس افسر پر حملے میں طاہرالقادری اور عمران خان کو طلب کیا تاہم وہ پیش نہیں ہوئے جس پر عدالت نے دونوں کو اشتہاری قرار دے دیا۔ گزشتہ برس جولائی میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزمان کو مفرور قرار دیا اور ان کی منقولہ اور غیرمنقولہ جائیداد ضبط کرنے کے عمل کا آغاز کیا گیا۔ بعد ازاں تحریک انصاف کے رہنماؤں نے 3 سال بعد جنوری 2018 میں ضمانت حاصل کی تھی اور مئی میں عمران خان کو ایس ایس پی حملہ کیس میں بری کردیا گیا تھا۔

دوسری جانب پارلیمنٹ ہاؤس اور پی ٹی وی بلڈنگ پر ہونے والے حملے کے مقدمے میں غیر حاضر افراد کے خلاف عدالت نے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ عارف علوی بھی اسی مقدمہ میں نامزد ہیں۔