سول ملٹری تعلقات ميں کوئی تناؤ نہيں، ملکی ترقی مشترکہ مقصد ہے، عمران خان

September 6, 2018

وزیراعظم عمران خان کہتے ہیں کہ 1965ء کی جنگ میں وہ 12 سال کے تھے، والد کی بندوق اٹھا کر باہر نکلا تھا، کرکٹ میں نہ جاتا تو آج ریٹائرڈ فوجی ہوتا، ملک کا سب سے فنکشنل ادارہ پاک فوج ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے جی ایچ کیو میں یوم دفاع و شہداء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا دوسروں کی جنگ میں حصہ لینے کیخلاف تھا، آئندہ کسی اور کی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔

وزیراعظم نے انٹیلیجنس ایجنسیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ملک میں واحد فنکشنل ادارہ فوج ہے، دیگر اداروں کو بھی مضبوط بنائیں گے۔

قبل ازیں وزیر اعظم اور آرمی چیف نے یادگار شہداء پر حاضری دی۔ یادگار شہداء پر پھول چڑھائے اور دعا کی۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ چھ ستمبر 1965ء کو وہ 12 سال کے تھے، زمان پارک میں شیلنگ اور دھماکوں کی آواز سنی، یہ دن کبھی نہیں بھول سکتا، 7 ستمبر کو افواہ تھی کہ رات کو بھارتی پیراٹروپرز آئیں گے۔

وزیراعظم کا مزید کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی بھی قوم کے مفاد میں بنائیں گے، سول ملٹری تعلقات میں کوئی تناؤ نہیں، ہمارا مشترکہ مقصد ملک کو آگے لے جانا ہے، ہمارا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے۔

مزید جانیے : قربانیاں دیں لیکن جنگ ابھی جاری ہے، آرمی چیف کا یوم دفاع پر پیغام

انہوں نے کہا کہ ان کے کزنز نے انڈین پیراٹروپرز کیلئے مورچہ بنایا، میں بھی والد کی بندوق لے کر پہنچ گیا تھا، میرے کزنز نے مجھے واپس بھیج دیا۔

عمران خان نے کہا کہ کرکٹ میں نہ جاتا تو آج ریٹائر فوجی ہوتا، دہشتگردی کیخلاف جنگ کا پاکستان نے کامیابی سے مقابلہ کیا، پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بڑی کامیابی ہے۔

تفصیلات جانیے : جی ایچ کیو میں یوم دفاع و شہداء کی مرکزی تقریب

انہوں نے کہا کہ فوج میں پروفیشنلزم اور میرٹ کا نظام ہے، جب تک ادارے میں میرٹ ہو ادارہ چلتا ہے، 60ء کی دہائی میں ہماری بیورو کریسی دنیا میں آگے تھی۔