پاکستانی دبئی میں 150 ارب ڈالر کے اثاثے رکھتے ہیں، چیف جسٹس

Shehzad Ali
September 3, 2018

پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں کا معاملہ، عدالت نے ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ نوٹسز کی فہرست طلب کرلی۔ ریمارکس دیئے کہ پاکستانی کے 150 ارب ڈالر کے اثاثے دبئی میں ملے ہیں، مہربانی کرکے 100 لوگوں کے نام دیں، باقی ہم خود دیکھ لیں گے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے پاکستانیوں کے بیرون ملک اثاثوں پر ازخود نوٹس کی سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اب تک 110 ارب کی جائیدادوں کا پتہ چل چکا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے صرف دبئی میں 150 ارب ڈالر کے اثاثے ملے، بہت سا پیسہ حوالہ کے ذریعے باہر گیا، ایمنسٹی اسکیم کے باوجود رقم باہر پڑی ہے، مہربانی کرکے 100 لوگوں کے نام دیں، باقی ہم خود دیکھ لیں گے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ایمنسٹسی اسکیم سے کچھ حاصل نہیں ہوا، ٹیکس عائد کرنے کی بات نہیں بھاری جرمانے ہونے چاہئیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا آنے والوں سے پہلا سوال رقم کی منتقلی کا ہوگا، جائیداد سے متعلق بیان حلفی لیا جائے گا۔

عدالت نے ایف بی آر کی جانب سے جاری ہونیوالے نوٹسز کی فہرست مانگ لی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ نام آج ہی ہمارے چیمبر میں بھیجے جائیں، کسی کا نام لیک آؤٹ نہیں ہونا چاہئے۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ دیکھتے ہیں وزیراعظم کی میٹنگ میں کیا ہوتا ہے، پھر جو حکم دینا پڑا دیں گے، سماعت بدھ تک ملتوی کردی گئی۔