نواز شریف کے ہر اچھے برے وقت کی ساتھی بیگم کلثوم نواز

September 11, 2018

تین بار پاکستان کی خاتون اول بننے کا اعزاز رکھنے والی بیگم کلثوم نواز اچھے بُرے وقت میں نواز شریف کی بہترین ساتھی ثابت ہوئیں۔ انتخابی مُہم سے لیکر جلا وطنی کے دور تک ہر تحریک میں مُسلم لیگ ن کی آواز بنیں۔


کلثوم بٹ 29 مارچ 1950 کو لاہور کے کشمیری گھرانے میں پیدا ہوئیں جس کا تعلق رستم زمان گاماں پہلوان کے خاندان سے ہے۔ والد کا نام حفیظ بٹ تھا۔ کلثوم کی دو بہنیں اور ایک بھائی ہے۔

انیس سو ستر میں اسلامیہ کالج سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد صنعتکار نواز شریف سے شادی ہوگئی۔ شادی کے بعد بھی تعلیمی سلسلہ ٹوٹنے نہ دیا اور پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

سن 80 کی دہائی میں نواز شریف نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا جس کے بعد بیگم کلثوم نواز 1990، 1997 اور پھر 2013 میں پاکستان کی خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

جنرل پرویزمشرف نے 1999 میں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹا تو کلثوم نواز سیاست میں آگئیں۔ ادب سے ذوق ہونے کی وجہ سے وہ اپنے میاں کے لئے تقریریں بھی تحریر کرتی رہیں۔ سال 1999 سے 2002 تک پارٹی کی سربراہ رہیں اورمشکل وقت میں اپنے خاوند اور پارٹی کارکنوں کا بھرپور ساتھ دیا۔

اٹھائیس جولائی 2017 کو سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیے جانے کے بعد کلثوم نواز نے اپنے شوہر کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست لاہور کے حلقہ این اے 120 کی نشست سے ضمنی انتخاب کے لئے کاغذات جمع کرائے مگر گلے کا سرطان تشخیص ہونے پرعلاج کی غرض سے لندن چلی گئیں۔

ستمبر دو ہزار سترہ میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں بیگم کلثوم نواز نے تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی لیکن لندن میں زیرعلاج ہونے کے باعث حلف نہ اٹھا سکیں۔

نواز شریف اور بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے، حسین نواز، حسن نواز اور دو ہی بیٹیاں مریم اور اسما ہیں۔ مریم نواز کی شادی کیپٹن (ر) محمد صفدر سے ہوئی جو وزارت عظمیٰ کے دور میں نواز شریف کے اے ڈی سی بھی رہے۔ چھوٹی صاحبزادی اسما کی شادی نواز شریف کے اہم سیاسی رفیق اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار سے ہوئی۔

نواز شریف اور بیگم کلثوم نواز کے صاحبزادے حسین اور حسن نواز لندن میں مقیم ہیں۔