ڈیرہ بگٹی،لیڈی ڈاکٹرز نہ ہونےکےباعث دوران زچگی اموات میں اضافہ

August 31, 2018

ڈیرہ بگٹی میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے حاملہ خاتون زچگی کے دوران نومولود بچے سمیت جاں بحق ہوگئیں۔ چھ ماہ کے دوران اب تک انیس خواتین اور نومولود بچے زچگی کے دوران جان کی بازی ہارچکے ہیں۔

 

ڈیرہ بگٹی میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے حاملہ خواتین اور نومولودبچوں کی جانیں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

 

 

ڈیرہ بگٹی کے محلہ ژانکو اللہ آباد کی رہائشی حاملہ خاتون حمیدہ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث صادق آباد لے جاتے ہوئے نومولود بچے سمیت دم توڑ گئی۔

 

زچگی کے دوران ماں اور بچے کی موت کا یہ پہلا نہیں  بلکہ رواں ماہ یہ خواتین اور نومولود بچوں کے ہلاکت کا چوتھا جبکہ چھ ماہ کے دوران انیسواں واقعہ ہے۔ پورے ڈیرہ بگٹی ضلع میں ایک بھی گائناکالوجسٹ یا لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کو علاج کیلئے سینکڑوں کلومیٹر دور پنجاب کے ہسپتالوں میں لے جانا پڑتا ہے ۔خواتین اور بچوں کی تواتر سے ہلاکتوں پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

 

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ضلع میں خواتین  ڈاکٹرز تعینات کرکے سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ زچگی کے دوران ماں اور بچے کی زندگی کو محفوظ بنایا جاسکے۔

 

 

دوسری طرف صوبائی وزیر صحت نصیب اللہ مری نے ڈیرہ بگٹی میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کے باعث ہلاکتوں کے معاملہ کا نوٹس لے لیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کا شدید افسوس ہوا ہے جب کہ جلد لیڈی ڈاکٹر فراہم کرکے زمہداران کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔