ٹی ایل پی کا اسلام آباد کی جانب مارچ، ہالینڈ کے سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ

August 30, 2018

ہالینڈ میں گستاخانہ خاکوں کے مقابلوں کیخلاف تحریک لبیک پاکستان نے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ شروع کردیا۔

ہالینڈ کے سیاسی رہنماء گریٹ ولڈرز نے گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کے انعقاد کا اعلان کر رکھا ہے۔

تحریک لبیک پاکستان کا مطالبہ ہے کہ ہالینڈ کے سفیر کو فوری ملک بدر کیا جائے اور سفارتی تعلقات بھی منقطع کئے جائیں۔

تحریک لبیک پاکستان سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کارکنان 29 اگست کو لاہور میں جمع ہوئے اور داتا دربار کے مزار سے احتجاجی مارچ شروع کیا۔

تحریک لبیک کے مطالبات

تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان اعجاز اشرفی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ہالینڈ کے سفیر کو فوری ملک بدر کرے، ان کا کہنا تھا کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاجی مارچ جاری رہے گا۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے انتیس اگست کو حکومتی وفد کے ہمراہ تحریک لبیک کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے درخواست کی کہ مارچ ختم کردیا جائے۔

تحریک لبیک کے ایک رکن نے سماء ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے رہنماؤں کو بتایا گیا ہے کہ دفتر خارجہ سمیت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سفارتی سطح پر گستاخانہ خاکوں کے مسئلے کو اٹھا رہے ہیں۔

بہرحال تحریک لبیک کے رہنماء پیر افضل قادری حکومتی درخواست مسترد کر چکے ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اٹھائیس اگست کو ہالینڈ کے ہم منصب سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ ایسے اقدامات نفرت اور عدم برداشت کا باعث بنتے ہیں۔

ہالینڈ کی حکومت پہلے ہی گستاخانہ خاکوں کے مقابلے سے اظہار لاتعلقی کرچکی ہے۔ ڈچ وزیراعظم مارک روٹا نے پچھلے ہفتے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ گستاخانہ خاکوں کے مقابلے کا تعلق حکومت سے نہیں۔

تحریک لبیک کا قیام

تحریک لبیک پاکستان دراصل تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ کی سیاسی شاخ ہے، جس کا قیام 2016ء میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد عمل میں آیا۔

یہ گروپ پہلی مرتبہ پنجاب میں 2015ء تحریک رہائی ممتاز قادری کے نام سے منظر عام پر آیا جس کا بعد میں نام تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ رکھا گیا۔

تحریک لبیک پاکستان نے عام انتخابات میں ملک بھر سے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے، 25 جولائی 2018ء کے الیکشن میں تنظیم نے 22 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے۔

اس جماعت کا مطالبہ ہے کہ نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو پھانسی دی جائے اور ملک میں اسلامی قوانین کا سختی سے نفاذ کیا جائے۔

نومبر2017ء میں تحریک لبیک پاکستان نے اسلام آباد کے فیض آباد انٹر چینج پر وزراء کے حلف میں تبدیلی کرنے کیخلاف 21 دن کا دھرنا دیا تھا۔

تحریک لبیک کی جانب سے دھرنا عسکری حکام کی مداخلت کے بعد ختم کیا گیا جبکہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو عہدے سے ہٹادیا تھا۔

اپوزیشن جماعتیں بشمول مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی، تحریک لبیک پاکستان کو ملک کے جمہوری نظام کیلئے خطرہ سمجھتی ہیں، ان جماعتوں کا مؤقف تھا کہ ٹی ایل پی ملک کی بڑی جماعتوں کا ووٹ بینک توڑنے کیلئے بنائی گئی تاہم تحریک لبیک پاکستان کے قائدین سیاسی جماعتوں کے دعوؤں کی تردید کرتے رہے ہیں۔

کچھ دن قبل سماء ڈیجیٹل میڈیا سے بات کرتے ہوئے سربراہ تحریک لبیک پاکستان علامہ خادم حسین رضوی نے کہا تھا کہ وہ جانتے ہی نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ہوتی کیا ہے۔ انہوں نے سماء کے رپورٹر سے کہا کہ وہ دوبارہ ان کے ساتھ بیٹھیں اور انہیں سمجھائیں کہ آخر یہ اسٹیبلشمنٹ ہوتی کیا ہے؟۔