Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

پختونخوا: خواتین پر تشدد میں خوفناک اضافہ، روں سال 170 قتل

SAMAA | and - Posted: Aug 30, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Aug 30, 2018 | Last Updated: 3 years ago

خیبر پختونخوا میں خواتین پر گھریلو تشدد اور قتل کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔ رواں سال صرف 6 ماہ کے اندر 170 خواتین کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جن میں غیرت کے نام پر ہونے والے واقعات کا تناسب انتہائی زیادہ ہے۔

عورت فاؤنڈیشن کے اعداد وشمار کے مطابق رواں سال جنوری سے جولائی تک صرف 6 ماہ میں 170 خواتین کو موت کی نیند سلا دیا گیا ہے۔ ان میں بیشتر خواتین کو ان کے شوہر یا دیگر رشتہ داروں نے غیرت کے نام پر قتل کیا۔

قتل اور تشدد کا نشانہ صرف گھریلو خواتین ہی نہیں بلکہ صوبے کی فنکارائیں بھی اس کی زد میں ہیں۔ رواں سال پشتو کی 3 معروف گلوکارائیں موت کے منہ میں دھکیلی گئیں۔ اگست کی پہلی تاریخ کو نوشہرہ میں گلوکارہ ریشم کو ان کے شوہر نے گولی مار کر قتل کردیا جبکہ فروری میں ایک اور اداکارہ سنبل کو شیخ ملتون ٹاؤن مردان میں واقع ان کے گھر کے اندر ملزمان نے گولی ماری۔ اس کے علاوہ متعدد خواتین فنکاروں پر گھریلو تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے۔

پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 2017 میں جنوری سے جون تک 121خواتین کو قتل کیا گیا جن میں غیرت کے نام قتل پر ہونے والی خواتین کی تعداد 24 ہے۔ باقی ماندہ کو گھریلو ناچاقیوں اور دیگر تنازعات کے باعث موت کے منہ میں دھکیلا گیا۔ اسی سال صرف 6 ماہ میں خواتین پر تشدد کے مجموعی طور پر 786 واقعات رپورٹ ہوئے۔

سال 2016 میں مجموعی طور پر 255 خواتین کو موت کی نیند سلایا گیا جن میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات کی تعداد 44 ہے جبکہ اسی سال خواتین پر تشدد کے 1716 واقعات سامنے آئے۔

ان اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ 2017 کے مقابلے میں رواں سال خواتین پر گھریلو تشدد اور قتل کے واقعات میں 29 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پشاور میں مقیم عورت فاؤنڈیشن کی نیشنل منجیر صائمہ منیر نے سما ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے صورتحال کو ’انتہائی خوفناک‘ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کی بیشتر وارداتیں ضلع ہری پور میں ہوتی ہیں جبکہ ضلع مانسہرہ اور چترال میں عورتوں میں خودکشی کا رجحان زیادہ ہے تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان علاقوں میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کرکے قانون سے بچنے کے لیے اس کو خودکشی کا رنگ دیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ وہ اعداد و شمار ہیں جو پولیس کو رپورٹ ہوئے اور اخبارات میں شائع ہوئے۔ اصل تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ خیبر پختونخوا کے بیشتر علاقوں میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات پولیس کو رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے یا پولیس اس قسم کے واقعات میں سرے سے مداخلت ہی نہیں کرتی۔

صائمہ منیر کا کہنا ہے کہ سینٹرل اضلاع پشاور، مردان، نوشہرہ اور چارسدہ میں خواتین پر تشدد کے واقعات زیادہ رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ جنوبی اور شمالی اضلاع کی اعداد وشمار کم ہیں۔ قبائلی علاقہ جات کی اعداد و شمار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ان علاقوں میں خواتین پر تشدد نہیں ہوتا۔ بلکہ سینٹرل اضلاع میں خواتین کی میڈیا اور پولیس تک رسائی آسان ہے اس لئے رپورٹ ہوجاتے ہیں۔ اس کے برعکس جنوبی، شمالی اور قبائلی اضلاع میں میڈیا اور پولیس تک رسائی مشکل ہے۔ اس لیے خواتین پر تشدد کے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔

خیبر پختونخوا کے دور دراز اضلاع دیر بالا، ضلع کوہستان، ضلع سوات کے دور درواز علاقے اور قبائلی علاقہ جات میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں پولیس سرے سے مداخلت ہی نہیں کرتی۔

ضلع سوات کے صحافی حیات محمد کالامی کا کہنا ہے کہ وادی کالام میں رواں ماہ 3 نوجوان لڑکیوں کی مبینہ خودکشی کے واقعات سامنے آئے لیکن جب پولیس اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے معاملات مشکوک سمجھ کر تحقیقات کیں تو 2 واقعات خودکشی کے بجائے قتل ثابت ہوئے۔

حیات محمد کالامی کے مطابق سوات کے مضافاتی علاقوں، دیر بالا اور کوہستان میں غیرت کے نام پر قتل کے بیشتر کیسز خاندان اور برادری میں ہی دفن کئے جاتے ہیں۔ پولیس کو نہ رپورٹ کیے جاتے ہیں اور نہ ہی پولیس مداخلت کرتی ہے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube