مولانافضل الرحمان کی حکومتی اتحادیوں سے ملاقاتیں

August 29, 2018

پیپلزپارٹی نے مولانافضل الرحمان کی حمایت سے انکار کیا تو تحریک انصاف کے اتحادیوں سے ملاقاتیں شروع کردی ۔

مولانافضل الرحمان کی کراچی میں گرینڈ ڈیموکریٹک اتحاد کے رہنما پیر پگارا سے ملاقات ہوئی پیر پگارا نے کہہ دیا مولانا نے بہت دیر کردی ۔

رہنمافنکشنل لیگ نے کہا کہ مولانافضل الرحمان کاصدارتی امیدوارنامزدگی کاعلم دیرسےہوا،پیرپگارا سے ملاقات پر مولانا صاحب کے مشکور ہیں، جی ڈی اے کی جانب سے مثبت جواب دیں گے۔

مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کنگری ہاؤس امیدوں کا گھر ہے،وہی محبت اوررشتہ آج ہمیں یہاں لایاہے، متحدہ اپوزیشن کی جانب سے امیدوار لانے کا فیصلہ تاخیر سے ہوا۔

فضل الرحمان نے کہا کہ مطمئن ہوں،صدارتی الیکشن کامعرکہ کامیابی سےسرکیاجائےگا،ہم ہمیشہ جمہوری جدوجہدکاحصہ رہےہیں، مل کرملک میں جمہوری استحکام کویقینی بنائیں گے، جی ڈی اےنےمشاورت کےبعدجواب دینے کا کہا ہے، جی ڈی اے کی جانب سے ہمیں مثبت اشارہ ملاہے، پی ٹی آئی بڑی جماعت تو ہے لیکن اکثریتی نہیں۔

بعدازاں مولانا فضل الرحمان ایم کیو ایم کے عارضی مرکز بہادر آباد پہنچ گئے،ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے وفد کا استقبال کیا اس موقع پر میئر کراچی وسیم اختر،کنور نوید جمیل،نسرین جلیل،فیصل سبزواری بھی

ملاقات میں موجود تھے ۔

ایم کیوایم رہنما عامر خان نے رابطہ کمیٹی سے مشاورت کا لالی پاپ دے دیا، عامر خان نے کہا کہ تاخیر ہوگئی،عارف علوی سے بات ہوئی ہے ،مگر رابطہ کمیٹی کے پاس بات رکھیں گے۔

عامر خان نے کہا کہ عارف علوی بھی یہاں آئے اب مولانا فضل الرحمان ہمارے پاس آئے ہیں،جب عارف علوی آئے تھے جب ایک ہی صدارت کاامیدوار تھا۔

ایم کیو ایم سے ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ متحدہ اپوزیشن نے توازن قائم رکھنے کے لئے مجھے امیدوار نامزد کیا ہے،متحدہ منجھی ہوئی سیاست کی عادی اور اسے سمجھتے ہیں،خلوص کے ساتھ معروضات کو سنا گیا امید ہے سنجیدگی سے غور کریں گے۔

زرداری سے رابطہ ٹوٹا نہیں،امید ہے برف پگھلے گی،الیکشن پر تحفظات ہیں مگر اتفاق رائے کے بعد اسمبلی گئے،میں پروٹوکول کا عادی نہیں،آج ان حالات کے باعث جن سے ھم گذرے ہیں ھم سادہ زندگی کو ترجیح دیتے ہیں۔