بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ گھمبیر ہے، جام کمال

SAMAA | - Posted: Aug 25, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 25, 2018 | Last Updated: 3 years ago

وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال عالیانی نے کہا ہے کہ کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے حکومتی جماعتوں میں کسی قسم کا اختلاف نہیں ہے پہلے مرحلے میں 60فیصد کابینہ ارکان حلف لیں گے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ مالی بحران کا شکا ر ہے اس کے حل کیلئے حکمت عملی وزیراعظم کو پیش کرونگا، 20دنوں میں صوبے کو تبدیلی کی جانب گامزن کریں گے جب کہ آنے والے دنوں میں اہم فیصلے کیے جائیں گے ۔

 

انہوں نے کہا کہ ہم نے پی ایس ڈی پی کو 88ارب اور غیر ترقیاتی اخراجات کو بڑھا کر خود بھی مالی بحران پیدا کر دیا ہے جس کا جائز ہ لیں گے ،محکمہ فنانس اور پی اینڈ ڈی کو ٹھیک کر نے کے لئے بھی اقدامات کریں گے ۔

 

وزیر اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتوں میں کابینہ کے حوالے سے اختلافات نہیں ہیں،وزیراعلیٰ کے حلف کے بعد عید کی تعطیلات آگئیں تھیں جس کے باعث یہ فیصلہ کیا گیاکہ عید کے فوراً بعد کابینہ کے حوالے سے فیصلہ کرلیں گے،تحفظات کی خبریں بے بنیاد ہیں،تمام اتحادی جماعتیں متحد ہیں ہماری کوشش ہوگی کہ دو مرحلوں میں کابینہ کا فیصلہ ہو پہلے مرحلے میں 60فیصد کابینہ کا انتخاب کیا جائیگا جس میں اتحادیوں کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے ذمہ داریاں دی جائیں گی جبکہ آنے والے دنوں میں چیزیں مزید بہتر ہونے پر دیگرکابینہ اراکین حلف لیں گے۔

 

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام کمال نے کہا کہ بلوچستان کو دہشتگردی نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے،بلوچستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے لاپتہ افراد کے معاملے پر اپنا موقف رکھا ہے اس حوالے سے اعداد و شمار بہت مختلف ہیں ،صوبے میں مسلکی،سیاسی اور دیگر حوالوں سے لوگ لاپتہ ہیں ،اس حوالے سے بہت سی اہم چیزیں جنہیں تمام سیاسی جماعتوں نے ملکر حل کرنا ہے لاپتہ افراد کا مسئلہ گھمبیر ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube