نوازشریف اور مریم کی سزا معطلی کی درخواست،عدالت نے فیصلہ سنادیا

August 20, 2018

Sheikh Faisal Rasheed

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نےفیصلہ سنادیا، عدالت نے سزا معطلی کی درخواستیں گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک مؤخر کردی ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں نواز شریف اور مریم نواز کی سزا معطلی کی درخواست پرفیصلہ سنا دیا گیا ہے، عدالت نے کہا ہے کہ اپیلوں کی سماعت سے پہلے سزامعطلی پرفیصلہ نہیں دے سکتے، ہائی کورٹ میں مرکزی اپیلیں پہلے ہی سماعت کے لئے مقررہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اِن حالات میں سزا معطلی کی اپیلوں پر پہلے فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، سزامعطلی کی درخواستیں گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک موخر کردی گئیں گرمیوں کی چھٹیاں 9 ستمبر کو ختم ہونگی جس کے بینچ مقدمے کی سماعت کرے گا ۔

اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز، مریم اور صفدر کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا ۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہاتھا کہ مناسب حکم نامہ جاری کریں گے، لکھنا ہوگا کہ کس دستاویز کی بنیاد پر فیصلہ دیا جارہا ہے۔

ایون فیلڈ ریفرنس کے مجرموں کی سزامعطلی کی درخواستوں پرسماعت میں نیب نے عدالتی احکامات کے مطابق شق وار جواب جمع کرائے پراسیکیوٹرسردارمظفر نے دلائل دیئے کہ ملزمان کی سزا معطل نہیں کی جا سکتی، دستاویزات سے ثابت کیا لندن فلیٹس کےمالک نوازشریف ہیں، پراسیکیوٹر نے موزیک فونسیکا کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہامریم کونیلسن،نیسکول کمپنیوں کی بینیفشل مالک ہیں۔

دلائل کو طول دینے پر جسٹس میاں گل سردار مظفر پر برہم ہوئے کہا کہ سردار صاحب پورا دن کتاب پڑھنی ہے کیا آپ نے ایک بھی قانونی نکتے پربات نہیں کی، ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نےکوئی حتمی نتیجہ اخذ کیے بغیرکیس ٹرائل کورٹ کو بھیجا، ہم نے ٹرائل کورٹ کا ریکارڈ دیکھنا ہے اصل کرپشن میں تو ملزمان کو بری کیا گیا۔

سردار مظفرڈھیلے پڑے تو ایڈیشنل پر اسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ ریسکیوکیلئے آگے بڑھے، دلائل دیئے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی رہا، کورٹ میں ثابت کیا کہ نوازشریف پبلک آفس ہولڈر تھے۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاناما کیس میں آف شور کمپنیوں سے متعلق تحقیقات میں سرمائے کی بیرون ملک منتقلی درست ثابت نہ کرسکنے پر عہدے سے ہٹاتے ہوئے سیاست کیلئے بھی نااہل قرار دیا گیا تھا، سپریم کورٹ نے شریف خاندان کیخلاف نیب کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی، ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 سال جبکہ کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی، تینوں مجرمان اڈیالہ جیل میں اپنی سزا بھگت رہے ہیں۔