پارا چنار میں امن لوٹ آیا، متاثرین کی واپسی

SAMAA | - Posted: Aug 18, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Aug 18, 2018 | Last Updated: 3 years ago

وہ ایک خوشگوار لیکن غیر متوقع لمحہ تھا۔ فوجی افسر کے ہاتھوں میں چابیاں تھیں۔ ان کے ساتھ ہی ایک سنی قبائلی بزرگ کھڑے تھے اور آس پاس لوگوں کا ہجوم کھڑا تھا۔ مجمع میں سے کسی نے آواز دی، ’’چابی پکڑو، چابی پکڑو‘‘۔ کچھ دیر کے لیے قبائلی بزرگ ہچکچائے۔

اس مقام پر پہنچنے کے لیے مذاکرات اور بات چیت کے کئی مرحلے منعقد ہوئے۔ لیکن جب بزرگ نے فوجی افسر سے چابیاں پکڑی تو آس پاس لوگوں نے سکون کا سانس لیا اور تالیاں بجائیں۔ سب جانتے تھے کہ ماضی کی تلخ یادوں سے جان چھڑانے کا لمحہ آپہنچا ہے۔

یہ تاریخی تقریب پاراچنار کے سنی متاثرین کی واپسی پر منعقد ہوئی تھی۔ 2007 میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھنے کے باعث اس علاقے میں مقیم ہزاروں سنی اور شیعہ قبائل اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوگئے۔ ان فسادات میں سیکڑوں افراد قتل اور سیکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

مکمل 10 سال بعد یعنی 2017 میں حکومت نے متاثرین کی واپسی اور بحالی پر کام شروع کیا۔ لوئر کرم سے جو شیعہ نقل مقانی کرکے پاراچنار گئے اور جو سنی پارا چنار سے نقل مکانی کرکے لوئر اور سنٹرل کرم منتقل ہوئے ان سب کی آبائی علاقوں میں واپسی ضروری تھی۔ اس طویل نقل مکانی اور مشکلات کے دوران سب کو احساس ہوگیا کہ مذہبی اور ثقافتی تنوع کے ساتھ ایک دوسرے کو قبول کرنے سے ہی امن اور بقائے باہمی ممکن ہے۔ اس لیے پارا چنار کے عمائدین نے آرمی اور حکومت کے ساتھ ملکر مفاہمتی راستہ نکالا۔

سماجی کارکن جلال حسین نے بتایا کہ پارا چنار، کرم ایجنسی اور صدہ سے بے گھر ہونے والے افراد کی واپسی اور بحالی کے لیے حکومت نے پہلے بھی اقدامات کیے ہیں اور موجودہ بریگیڈیئر اختر علیم، پولیٹیکل ایجنٹ، ایم این اے، سینیٹر سمیت سارے اسٹیک ہولڈرز نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی اور آبادکاری پر متفق ہیں۔

شیعہ رہنما سید حسنین بادشاہ نے سما ڈیجیٹل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2007 سے طالبان نے ہم پر جنگ مسلط کی۔ یہاں کے راستے بند ہوگئے۔ بہت سارے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہوگئے اور یہاں ہم نے بہت مشکل حالات کا سامنا کیا۔ اب حالات ٹھیک ہوگئے ہیں، ہم اپنے سنی بھائیوں سے درخواست کرتے ہیں کہ واپس آجائیں یہاں ان کی اپنی زمین جائیداد ہے۔

حکومت اور عمائدین تو آمادہ ہوگئے لیکن متاثرین کو واپسی پر کئی مشکلات درپیش تھے کیوں کہ جنگ کے دوران ان کے گھر تباہ ہوچکے تھے۔ اس لئے حکومت نے منہدم شدہ گھر تعمیر کرنے کے لیے 3 لاکھ جبکہ مرمت کے لیے 50 ہزار روپے دیے ہیں۔ آرمی نے چند تباہ شدہ گھر دوبارہ تعمیر کئے۔

پاک فوج کے بریگیڈیئر اختر علیم، ڈپٹی کمشنر کرم، انجمن حسینیہ اور تحریک حسینی کے رہنماوں نے باب پارا چنار پر واپس آنے والے 10 سنی خاندانوں کا استقبال کیا۔ اس موقع پر فوجی بینڈ نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا جبکہ افسران اور عمائدین نے متاثرین کو ہار پہنائے۔

یہاں سے متاثرین کو عثمانیہ مارکیٹ پلازہ کے علاقہ میں لے جایا گیا جہاں ان کے لیے نئے گھر تعمیر کئے گئے ہیں۔ سیاسی رہنماؤں نے متاثرین میں گھروں کی چابیاں تقسیم کیں۔ جبکہ بریگیڈیئر اختر علیم نے کہا کہ متاثرین کی واپسی ہماری اولین ترجیح ہے۔

تاہم سنی قبائلی حضرت علی نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کو مزید مدد کی ضرورت ہے۔ امدادی بڑھا کر دوگنی کی جائے۔ حضرت علی نے کہا کہ اگر آرمی اور پولیٹیکل انتظامیہ ہمارے ساتھ تعاون کرے اور امن کی فضا قائم کرے تو ہم پارا چنار میں زندگی گزار سکتے ہیں۔ میں اپنی کمیونٹی سے گزارش کرتا ہوں کہ امن لوٹ آیا ہے۔ اس لیے واپس اپنے آبائی علاقے میں آجائیں۔

پارا چنار کی شیعہ کمیونٹی کو احساس ہے کہ سنی آبادی کو تحفظ کا احساس دینا ہوگا اور جو سنی واپس اپنے علاقے میں پہنچ گئے ہیں ان کو بھی اپنی اس ذمہ داری کا احساس ہے کہ دوسرے سنی متاثرین کو واپسی پر آمادہ کریں۔

انسانی حقوق کے کارکن عظمت علی علیزئی نے سما کو بتایا کہ کرم ایجنسی اور پارا چنار شہر سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین واپسی اور بحالی کے لیے ہم کام کر رہے ہیں اور ہیومن رائٹس کمیشن سمیت ہر فورم پر میں نے ان متاثرین کا معاملہ اٹھایا ہے۔

سنی بزرگ حاجی مینگل نے سما ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا میرا تعلق پارا چنار کے اہل سنت مکتبہ فکر سے ہے۔ میرے جو اہل سنت بھائی پارا چنار چھوڑ کر گئے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ وہ واپس آجائیں اور اپنے گھر، محلے اور بازاروں کو ایک بار پھر آباد کریں۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube