اسد قیصر نے اسپیکر قومی اسمبلی کا حلف اٹھا لیا

Samaa Web Desk
August 15, 2018

تحریک انصاف کی جانب سے نامزد امیدوار اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کے حلف اٹھا لیا، وہ 176 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ اپوزیشن کے نامزد امیدوار خورشید شاہ 146 ووٹ حاصل کر سکے۔

قومی اسمبلی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب خفیہ رائے شماری کے ذریعے ہوا۔ اس موقع پر کسی بھی رکن کو موبائل سے ووٹ کی تصویر بنانے کی اجازت نہیں تھی، ہر ووٹر کو بیلٹ پیپر سیکریٹری اسمبلی کی طرف سے جاری ہوا، امیدواروں اور پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں ووٹوں کی گنتی ہوئی۔ کامیاب اسپیکر سے سبکدوش ہونے والے اسپیکر ایاز صادق نے حلف لیا۔

اجلاس کے آغاز پر 5 منتخب اراکین قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا، جو کسی وجہ سے 13 اگست کو حلف نہیں اٹھا سکے تھے۔ اسپیکر اسمبلی کے انتخاب کی غرض سے ووٹ کاسٹ کرنے کے لیے اراکین کو حروف تہجی کے مطابق باری باری ان کے نام سے بلایا گیا۔ اسپیکر کے انتخاب کے لیے 2 پولنگ بوتھ بنائے گئے۔ ایک پولنگ بوتھ پر پیپلز پارٹی سےغلام مصطفیٰ شاہ اور تحریک انصاف کے عمران خٹک پولنگ ایجنٹ، جب کہ دوسرے پولنگ بوتھ پر پیپلز پارٹی کی شازیہ مری اور تحریک انصاف کے عمر ایوب پولنگ ایجنٹ تھے۔

اس سے قبل اسپیکر ایاز صادق نے اراکین کو بیلٹ باکس دکھانے کی ہدایت کی اور کہا کہ 'اس میں ہاتھ لگا کر دیکھیں، کہیں کچھ پہلے سے تو نہیں'۔ پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 'بیلٹ باکس پر پین کے بجائے مہر کا استعمال کیا جائے' جس پر اسپیکر نے کہا کہ 'میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں، مہر اور پیڈ فراہم کیے جائیں گے'۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جب ووٹ ڈالنے پہنچے تو معلوم ہوا کہ ان کے پاس شناختی کارڈ نہیں تھا، جس پر پولنگ ایجنٹس کی رضامندی سے انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔

دوسری جانب عمران خان نے ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد اسپیکر سے ہاتھ بھی نہیں ملایا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے اعتراض اٹھایا کہ 'میرا شناختی کارڈ نہیں تھا، جس پر اسٹاف نےکہا کہ کارڈ لے آئیں یا دوبارہ اسمبلی کارڈ بنوا کر لائیں، جبکہ عمران خان نیازی کے پاس کارڈ نہیں تھا، لیکن انہیں اجازت دی گئی'۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'تمام ارکان برابر ہیں، سب سے یکساں سلوک ہونا چاہیے'۔ جس پر اسپیکر ایاز صادق نے عبدالقادر پٹیل سے کہا کہ 'اگر آپ بھی پوچھ لیتے تو آپ کو بھی اجازت دے دی جاتی، میرے لیے تمام ارکان برابر ہیں'۔

تحریک انصاف کو ایم کیوایم، بلوچستان عوامی پارٹی، بی این پی مینگل، جی ڈی اے، ق لیگ، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی حمایت حاصل ہے۔ تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں 151 نشستیں ہیں جبکہ ایم کیوایم کی 7، بلوچستان عوامی پارٹی کی 5، بی این پی مینگل کی 4، جی ڈی اے کی 3، عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کی ایک ایک نشست ہے۔ 4 میں سے 2 آزاد ارکان نے بھی تحریک انصاف کو حمایت کی یقین دہانی کرا رکھی ہے۔ یوں تحریک انصاف کے مجموعی ووٹوں کی تعداد 177 بنتی ہے۔

دوسری جانب سید خورشید شاہ اور مولانا اسعد محمود کو مسلم لیگ ن کے 81، پیپلزپارٹی کے 53، ایم ایم اے کے 15 اور اے این پی کے ایک رکن کی حمایت حاصل ہے۔ اس طرح اپوزیشن اتحاد کے امیدواروں کو 150 کے قریب ووٹ مل سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد وزیراعظم کے انتخاب کا مرحلہ آئے گا۔ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی 16 اگست دن 2 بجے تک جمع ہوں گے جس کے بعد وزیراعظم کا انتخاب اگلے روز 17 اگست کو ہوگا۔

عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پی ٹی آئی نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف وزیراعظم کے مشترکا امیدوار ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کے وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے کی تاریخ 18 اگست مقرر کی گئی ہے۔